President Erdogan, AK Party win Turkish elections againتصویر سوشل میڈیا

استنبول: صدر طیب اردگان کی معزولی ، ان کی حکومت کے مزید آمرانہ راستے کو روکنے اوران کے اقتدار کی ہیٹ ٹرک کے امکانات خدشات کے سائے میں جدید ترکی کی 100 سالہ تاریخ میں ہونے والے اب تک کے سب سے اہم انتخابات میں سے ایک میں ترکوں نے اتوا کے روز اپنا ھق رائے دہندگی استعمال کر کے رجب طیب اردوغان کو ان کے قریبی حریف کمال کلیچدارو اوغلو پر برتری دلا کر ان کے اقتدار کی ہیٹ ٹرک کرنے کی راہ ہموار کردی۔ دیپیر کی صبح 2 بجے تک اردوغان 49 فیصد ووٹ تھے۔ ان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) نے بھی بیک وقت پارلیمانی انتخابات میں بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کیں البتہ اس کی مجموعی سیٹیں جو 296 تھیں اس بار کم ہو کر 266 رہ گئیں۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے 166 نشستیں حاصل کیں، لیکن اسے یہ نشستیں اکیلے نہیں ملیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس صرف 135 سیٹیں ہیں۔

اردوغان نے نصف شب کے بعد دارالحکومت انقرہ میں اے کے پی کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں سے کہا کہ وہ قومی مرضی کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن انہیں “واضح برتری حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ترکی نے سیاسی انتخابات میں قومی ارادے کی بالادستی اور اپنے شہریوں کی آزادی کا عزم کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اس کا شمار دنیا کی معروف جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔اردوغان نے یہ بھی کہا: ہمیں یقین ہے کہ ہم یہ الیکشن 50% سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے جیتیں گے۔ابھی 1,500 ووٹ بیرون ملک سے آنے ہیں ۔ ان کی ابھی گنتی نہیں ہوئی۔اگر کسی ایک میدوار کو 50فیصد وٹ نہ ملے تو سپریم الیکشن کمیٹی دوسرے راؤنڈ کے الیکشن کا اعلان کر سکتی ہے۔گنتی کے ابتدائی مرحلہ میں اردوغان نے اپوزیشن جماعتوں کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں آگے ہونے کا دعویٰ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ۔

اتوار کو دیر گئے ایک ٹویٹ میں اردگان نے سخت تنقید کی جسے انہوں نے حزب اختلاف کی طرف سے سیاسی مرضی کی چوری قرار دیا۔ ان کے تبصرے ووٹنگ کے نتائج میں ہیرا پھیری یا تاخیر کے اپوزیشن کے دعووں اور ان کے نتائج شائع کرنے والے اپوزیشن کے حامی میڈیا کے درمیان آئے۔ انہوں نے کہا کہ 14 مئی کو ہونے والے انتخابات پرامن طریقے سے ہوئے اور یہ جمہوریت کا تہوار تھا۔ یہ ترکی کی جمہوری پختگی کا عکاس ہے۔اردوغان نے کہا کہ ووٹنگ میں قوم کی مرضی کی عکاسی دیکھ کر انہیں بہت مسرت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *