At least 900 houses destroyed, 420 coconut trees broken in Bangladesh rampageتصویر سوشل میڈیا

ڈھاکہ:خلیج بنگال پر نازل ہونے والا سمندری طوفان موکھا سمندر میں آٹھ مربع کلومیٹر کے رقبے کے ساتھ مرجان جزیرے سینٹ مارٹن سے ٹکرا گیا۔جزیر ہ سینٹ مارٹن خلیج بنگال کے شمال مشرقی حصے میں ایک چھوٹا جزیرہ (رقبہ صرف 3 کلومیٹر) ہے، جزیرہ نما کاکس بازار۔ٹیکناف کے سرے سے تقریباً 9 کلومیٹر جنوب میں اور بنگلہ دیش کے انتہائی جنوبی حصہ میں واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے ۔توار کی سہ پہر 2بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک تین گھنٹے کے اس بحری طوفان میں جزیرے کے کم از کم 900 مکانات تباہ ہو گئے۔ 420 ناریل کے درختوں سمیت مختلف پھلوں کے کم از کم 3000 درختوں کو نقصان پہنچا۔ طوفان میں 11 افراد زخمی ہو گئے۔

اس کے علاوہ جزیرے کے شمال کی جانب، مغربی اور مشرقی جانب کے کچھ علاقے تیز و تند سمندری لہر کی وجہ سے زیرآب آگئے، طوفان سے قبل 3 سائکلون شیلٹرز، 4 تعلیمی ادارے اور 37 ہوٹل، ریزورٹ، کاٹیجز کو خالی کرایا گیا تھا۔ ان 3 سائیکلون شیلٹر میں پناہ لینے والے تقریباً 6 ہزار مقامی رہائشی جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں ،اتوار کی شام کو طوفان کے رکنے کے بعد وہ پناہ گاہ چھوڑ کر گھر واپس آگئے۔سینٹ مارٹن یونین پریشد (یو پی) کے چیئرمین مجیب الرحمان نے دعویٰ کیا کہ موکھا کا مسلسل تین گھنٹے کا طوفان 1991 کے تباہ کن طوفان سے زیادہ تباہ کن اور بھیانک تھا، انہوں نے مزید بتایا کہ جب طوفان موکھا سینٹ مارٹن سے ٹکرایا تو سمند میں طغیانی کم ہو رہی تھی اور پانی نیچے اتر رہا تھا۔

ڈیڈ چینل کی وجہ سے جوار کی اونچائی بھی کم تھی لیکن موکھا کی رفتار 180 سے 190 کلومیٹر تھی۔ مجیب الرحمان نے کئی دہائیوں کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شروع سے ہی طوفان موکھا کی ہولناکی کے بارے میں پروپیگنڈے کی وجہ سے سینٹ مارٹن کے باشندے خوف میں مبتلا تھے۔ اس سے قبل طوفان کی آمد و¿مد کے پروپیگڈے سے تقریباً 6000 جزیروں نے پناہ گاہیں بنا لی تھیںجس کی وجہ سے تین گھنٹے تک طوفان کی جاری رہنے والی تباہی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔البتہ کچے مکانات و ٹین کے شیڈ والے گھروں اور درختوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *