Prince Harry talks royal family ahead of book launchتصویر سوشل میڈیا

نیو یارک :(اے یو ایس)پرنس ہیری، ڈیوک آف سسیکس نے، جو اپنی ایک تصنیف میں25افغانوں کو دوران جنگ ہلاک کرنے کا اعتراف کرنے کے باعث افغان طالبان کا ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں،اپنی کتاب اسپئر کے اجرا کے موقع پر امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہم اپنے خاندان کے ساتھ کبھی بھی امن و سکون سے رہ سکتے ہیں تاوقتیکہ کہ حقیقت سامنے نہ آجائے۔ بہت کچھ ہے جسے میں در گزر کر سکتا ہوں لیکن مفاہمت کے لیے تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔ اور اس کے ایک جزو کے طور پر احتساب ہونا چاہیے۔

واضح ہو کہ افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور سینئر قیادت نے برطانوی شہزادے ہیری کو ان کے اس اعتراف پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ جب وہ امریکی اتحاد کی افواج میں ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے تو انہوں نے 25 افغان باشندوں کو ہلاک کیا تھا۔ شہزادہ ہیری نے یہ اعتراف اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’ سپئر‘ میں کیا ہے۔ہیری نے ہلاک کیے جانے والے 25 افراد کو شطرنج کے مہروں سے تعبیر کر تے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ان مہروں کو شطرنج کی بساط سے ہٹا دیا کیونکہ وہ برے لوگ تھے۔اپنی تصنیف اسپئر میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب میں نے خود کو جنگ میں گھرا ہوا پایا تو میں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ 25 انسان تھے۔اپنی کتاب میں ہیری لکھتے ہیں کہ وہ شطرنج کے مہرے تھے جنہیں جنگ کی بساط سے ہٹا دیا گیا۔ قبل اس کے کہ وہ اچھے لوگوں کو مار دیتے برے لوگوں کا خاتمہ کر دیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *