Protest of Afghan refugees in Pakistan enters 58th dayتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان میں سینکڑوں افغان پناہ گزینوں کا احتجاج 58ویں دن میں داخل ہو گیا۔ یہ افغان پناہ گزیں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین سے اپنی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام احتجاجی پناہ گزیں ایک پارک میں ڈیرا ڈالے ہیں او ر ان کے شب و روز وہیں گذر رہے ہیں۔”ہمیں بچاو¿” کے نعرے لگانے والے مظاہرین بین الاقوامی برادری ے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے مطالبات کا مثبت جواب دیں۔

احتجاج کرنے والے صفی اللہ سلطانی نام کے ایک پناہ گزیںنے کہا کہ یوکرین کی جنگ کے باعث دنیا نے افغانستان کو بھلا دیا ۔ نہ صرف پاکستان میں افغانوں کے مسئلے بلکہ تمام دیگر ممالک میں افغانوں پر توجہ ہٹ گئی ہے ۔ایک اور احتجاجی کرنے والے عبدالسمیع خطیبی نے، جو سیاسی پناہ کا متلاشی ہے کہا کہ اب تک کسی بھی ملک نے حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے بھی افغانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی انہیں پناہ دی۔ دریں اثنا ایران میں متعدد افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے عمل نے اس ملک میں رہنے والے افغانوں کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ایک افغان پناہ گزیںلطیفہ استانکزئی نے کہا کہ کچھ افغان پناہ گزین اس فکر میں گھلے جا رہے ہیں کہ چھ ماہ بعد ان کو ملک بدر کر دیا جائے گا : اور ہم مردم شماری کاغذات نہیں لے رہے۔ تارکین وطن کے اندراج کے لیے مردم شماری کے کاغذات کی تقسیم میں دس دن باقی رہ گئے ہیں اور ہم سرحد پار کر گئے۔ایران میں ایک افغان مہاجر، نقیب اللہ مظلوم یار نے کہا کہ اب تک 1.5 ملین سے زیادہ پناہ کے متلاشیوں کی شناخت ہو چکی ہے، اور یہ سلسلہ جولائی کے مہینے تک جاری رہے گا۔ دوسری جانب امارات اسلامی نے تسلیم کیا ہے کہ افغانوں کو بیرون ملک چیلنجز کا سامنا ہے۔

امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے حکام افغان مہاجرین کے مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے تمام ممالک بالخصوص ایران اور پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ افغانستان میں امارت اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے بعد بہت سے افغانوں نے ملک چھوڑ دیا اور اب وہ پڑوسی ممالک میں ناگفتہ بہ زندگی بس کر رہے ہیں اور نامساعد حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *