Religious tensions in Japan as Muslim population growsتصویر سوشل میڈیا

ٹوکیو:جاپان کا مذہبی منظر نامہ ایک تبدیلی کے ایک ایسے نمایاں دور سے گزر رہا ہے جو گذشتہ دو د عشروں کے دوران ملک میں تعمیر کی جانے والی مساجد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر زیادہ واضح ہوتا ہے۔ اسلامی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ جاپانی شہریوں کا شادی کر کے اسلام قبول کرنا اس کی اہم وجہ بتائی جاتی ہے۔ 2000 میں جاپان میں مسلمانوں کی تعداد 10,000 سے 20,000 کے درمیان بتائی گئی تھی جبکہ موجودہ اندازہ اس سے زیادہ ہے اور یہ تعداد اب2023میں یعنی صر ف تین سال کے بعد 200,000 (دو لاکھ ) بتائی جاتی ہے جو کہ 2020کے مقابلہ دس گنا اضافہ ہے۔

اس کے علاوہ، وہ مساجد جو جاپان میں شاذ و ندر ہی ہوا کرتی تھیں اب نایاب نہیں رہیں۔1999 میں صرف 15 تھیں جن کی تعداد مارچ 2021 تک بڑھ کر 113 ہو گئیں۔ ایک معروف معاملہ مسجد استقلال اوساکا کا ہے، جو پچھلے سال اوساکا کے نشیناری وارڈ میں سامنے آیا تھا۔ یہ ایک ایسے ڈھانچے میں واقع ہے جو کبھی فیکٹری ہوا کرتا تھا۔ تزئین و آرائش کے تما م اخراجات انڈونیشیا ئی لوگوں کے عطیات سے پورے ہوتے ہیں اور اس امر سے سبھی واقف ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی انڈونیشیا میں پائی جاتی ہے۔ جس سے یہ رجحان جہاں ایک جانب جامع جاپانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے وہیں چیلنجز اور دراڑ بھی پیش کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *