استنبول: (اے یو ایس) حال ہی میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ ترکی کے دوران ان کے شاندار استقبال کے ساتھ ساتھ ایوان صدر میں ان کے پروٹوکول کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں انہوں نے ترکی کے روایتی پروٹوکول سے ہٹ کر’خوش آمدید عسکر‘ کے بجائے گارڈ کے دستے کو’السلام علیکم‘ کہہ کر مخاطب کیا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی انقرہ میں صدارتی احاطے میں آمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ استقبالیہ تقریب کے دوران وہ نیلے قالین پر آگے بڑھے۔
ترک صدارتی گارڈ کے سامنے کھڑے ہوئے جہاں انہیں سلامی دی گئی۔ اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے ترک دستے کو’السلام علیکم‘ کہا۔ حالانکہ گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ترک ایوان صدر میں آنے والے عالمی رہنماو¿ں کو استقبال کے موقع پر’خوش آمدید عسکر‘ کہنا ہوتا ہے۔ جس کے جواب میں وہ مہمان رہنما کو’شکریہ جناب‘ کے الفاظ میں جواب دیتے ہیں۔ترکی میں پروٹوکول کے الفاظ کو تبدیل کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ جس ویڈیو میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نمودار ہوئے اور انہوں نے یہ بات کی وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی اور اس پر شہریوں کی طرف سے بھرپور رد عمل بھی آیا ۔
ولی عہد کی جانب سے تبدیل کی گئی’خوش آمدید عسکر‘ کی اصطلاح 112 سال قبل اتا ترک کے عہد میں قائم ہوئی۔ اتا ترک نے ’خوش آمدید عسکر‘ کہا تھا۔ سپاہیوں نے شکریہ جناب سے جواب دیا۔ اس کے بعد یہ ترکی میں پروٹوکول کا رواج بن گیا۔سعودی ولی عہد نے اپنے علاقائی دورے کا اختتام ترکی میں اپنے تیسرے پڑاؤ سے کیا، جہاں انہوں نے دارالحکومت انقرہ میں صدارتی محل میں ترک صدر کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی امور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ دونوں رہ نماو¿ں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔
تصویر سوشل میڈیا