تہران:(اے یو ایس ) ایران میں پاسداران انقلاب کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی وزارت نے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ ایران میں جاری مظاہرے روع کرانے ور پھر انہیں ہوا دینے میں ان تینوں ملکوں کا ہی ہاتھ ہے۔ یہ تینوںممالک شروع سے ہی ایران کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہے ہیں اور اس بار بھی انہوں نے وقع غنیمت جانا اور مہسا امینی کی موت کو بہانہ بنا کر ایران میں احتجاج شروع کراکے مظاہرین کو مشتعل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہے ۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ “ایران میں مظاہروں کو بھڑکانے کی تیاری میں امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس اور اسرائیلی موساد کے درمیان تعاون کی تصدیق کرنے والی معلومات موجود ہیں۔ دونوں ایرانی اداروں نے نشاندہی کی کہ جس کو انہوں نے دشمن ممالک کے طور پر بیان کیا ہے ان کی انٹیلی جنس نے ایران کے اندر اپنے کلائنٹس کے لیے فوجی ساز و سامان اور جاسوسی کے آلات اسمگل کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات تصدیق کرتی ہیں کہ اسرائیلی موساد نے زیادہ تر فسادات ایران میں مسلح گروپوں کے تعاون سے کرائے ہیں۔مزید یہ کہ امریکی انٹیلی جنس نے اپنے کچھ ایرانی ایجنٹوں کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے مہسا امینی کی پہلی تصویر اس وقت لی تھی جب وہ ہسپتال میں تھیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک شخص جسے اس نے امریکی انٹیلی جنس کا ایجنٹ قرار دیا ہے، نے ایران کے شمال مغرب میں واقع شہر سقز میں امینی خاندان کو اکسایا اور ایسے مناظر فلمائے اور شائع کیے جو من گھڑت تھے۔اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ایران کے پاس ایسی دستاویزی معلومات موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ کئی امریکی اداروں نے مظاہروں کے آغاز سے کئی ماہ قبل ایران میں مظاہروں کو بھڑکانے کی تیاری شروع کر دی تھی۔قابل ذکر ہے کہ 16 ستمبر کو نوجوان خاتون مہسا کی موت کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہرے تھم نہ سکے ہیں اور عوامی ناراضگی میں تبدیل ہو گئے۔ان حالیہ مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے پرتشدد رویے کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوچکیں اور سیکڑوں افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ۔
تصویر سوشل میڈیا 