Sudden death of ambassador of Solomon Islands posted in Chinaتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: چین میں جزائر سولومن کے سفیر جان موفٹ فوگوئی (61) کی مشتبہ موت ہوگئی۔ یہ جانکاری جمعہ کو سولومن فارن ڈیپارٹمنٹ نے دی۔ وہ چین میں مرنے والے پانچویں غیر ملکی سفارت کار ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں دارالحکومت بیجنگ میں اب تک پانچ سفارت کار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سولومن کے محکمہ خارجہ کے علاوہ محکمہ تجارت کی جانب سے بھی ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ فوگوئی کا انتقال گذشتہ جمعرات کو ہوا۔ ان کی موت کی وجہ کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔اپریل 2022 میں چین اور جزائر سولومن کے درمیان ایک سیکورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے بعد امریکہ اور آسٹریلیا پریشان ہو گئے۔ انہیں خدشہ تھا کہ معاہدے کے بعد چین بحرالکاہل میں اپنا فوجی اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے۔ اپنے دور میں فوگوئی نے سولومن کے دارالحکومت ہونائیرا سے چین کے کئی شہروں کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرائی تھیں۔ انہوں نے کئی اقسام کی برآمدات کو فروغ دیا۔ اس کے ساتھ سولر انرجی سے لے کر چینی سرمایہ کاری اور سیاحوں کو راغب کرنے تک کافی کام کیا گیا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق فوگوئی کے اچانک انتقال کے بعد پانچ سالہ دوطرفہ معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس کی وجہ سے آسٹریلیا اور امریکہ خاصے پریشان ہیں۔ فوگوئی سے پہلے یوکرین کے سفیر 65 سالہ سیہری کامیشیف فروری 2021 میں انتقال کر گئے تھے۔ کامیشیف بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کے مقام کا معائنہ کرنے کے بعد واپس آئے تھے۔ اس کے علاوہ جرمنی کے 54 سالہ جان ہیکے بھی ستمبر 2021 میں بیجنگ میں انتقال کر گئے تھے۔ ہیک اس وقت چانسلر انجیلا مرکل کے خارجہ پالیسی کے مشیر تھے۔ سفیر کا عہدہ سنبھالنے کے صرف دو ہفتے بعد ہی ان کا انتقال ہوا تھا۔ فلپائنی صحافی سے سفارت کار بنے 74 سالہ جوس سینٹیاگو ‘چیٹو’ سٹا رومن کی 74، اپریل 2022 میں انہوئی صوبے میں قرنطینہ کے دوران موت ہوگئی تھی۔ پھر اگست میں میانمار کے چیف آف مشن یو یو میو تھنٹ پے کا صوبہ یونان کے صوبائی دارالحکومت کنمنگ میں انتقال ہو گیا۔ فوگوئی مئی 2021 میں چین میں جزائر سولومن کے پہلے سفیر بن گئے جب ان کے ملک نے ستمبر 2019 میں ‘ون چائنا’ پالیسی کے حصے کے طور پر تائپے سے بیجنگ کو سفارتی شناخت منتقل کی۔ اس فیصلے کے بعد جزائر سولومن کا تائیوان سے تعلق جو تین دہائیوں سے جاری تھا ،کم و بیش ختم ہو گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *