کابل: افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کی جانب سے خواتین پر کئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ ان پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کئی بین الاقوامی تنظیموں نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کے حوالے سے تفریق آمیز رویہ اپنا رہی ہے۔ طالبان انتظامیہ اپنے دور حکومت میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کئی بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے ملک کی صنف پر مبنی پالیسیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں طالبان کے کنٹرول میں ہونے والے کئی واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے جو صنف کی بنیاد پر تفریقی برتاؤ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔
خامہ پریس نے طالبان کی طرف سے خواتین پر ہونے والے مظالم کی ایمنسٹی کی تمام حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ افغان خواتین کو خاموش کر دیا گیا ہے اور وہ جلد ہی تمام شعبہ ہائے حیات سے غائب ہو سکتی ہیں۔ طالبان کے اقدامات اس کی تفریق آمیز پالیسی ،مثلاً تمام علاقوں سے خواتین اور لڑکیوں کا اخراج،کی عکاسی کرتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ خواتین اور لڑکیوں پر طالبان کی سخت پابندیاں، جن میں شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ اور بچوں کے حقوق کے کنونشن شامل ہیں، کئی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان میں خواتین پر طویل عرصے سے غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے پر پابندی عائد ہے۔ بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے بار بار موجودہ حکام سے کہا ہے کہ وہ انہیں گھروں سے باہر کام فراہم کریں لیکن طالبان اب بھی افغانستان میں خواتین پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔تاہم کچھ خواتین اور لڑکیوں نے اپنے گذر بسر کے لیے کام شروع کر دیا ہے اور انہوں نے کاروبار یا دیگر پیشہ ورانہ کوششوں کو اپنا کر پیسہ کمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ اگست 2021 میں امریکہ کے ملک سے مکمل انخلا اور پھر طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغان خواتین کو ملکی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے یا درجہ ششم سے آگے تعلیم کے لیے اسکول و کالج جانے کی اجازت نہیں ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 