TTP's 'most-wanted terrorist' Muhammad Khorasani killed in in Afghanistanتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: کالعدم تحریک طالبان پاکستان )ٹی ٹی پی( کے ترجمان اور دہشت گرد گروہ کا انتہائی مطلوب کمانڈر خالد باتلی عرف محمد خراسانی پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میںمارا گیا ہے۔ پاکستان کے دفاعی ذرائع نے پیر کو یہ اطلاع دی۔ دفاعی ذرائع نے تفصیلات بتائے بغیر یہاں بتایا کہ خراسانی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں مارا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے خراسانی کے مارے جانے کی تصدیق کی، لیکن اس کے ارد گرد کے حالات کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہا تھا۔ اس نے حال ہی میں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملے کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ گلگت بلتستان کا رہائشی خالد بٹی عرف محمد خراسانی گزشتہ کئی سالوں سے ٹی ٹی پی کا آپریشنل کمانڈر تھا۔ 2007 میں اس نے سوات میں کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی میں شمولیت اختیار کی اور ٹی ٹی پی کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لیے۔

محمد خراسانی کے ٹی ٹی پی کے ارکان کے ساتھ ہر سطح پر خوشگوار اور قریبی تعلقات تھے اور اس نے ٹی ٹی پی کی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام نے بتایا کہ خراسانی خیبر پختونخواہ کے میرانشاہ قصبے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے چلاتا تھا اور آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان فرار ہو گیا تھا۔ ٹی ٹی پی جسے پاکستانی طالبان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے جو افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر کام کرتی ہے۔ اس نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں پاکستان میں کئی حملے کیے ہیں، جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *