تل ابیب:(اے یو ایس ) ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا کہ امریکا اور اسرائیل 2015 کے جوہری معاہدے کی طرف جلد واپس نہ آنے کی صورت میں ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔’ایکزیس‘ ویب سائٹ نے اسرائیلی اہلکار کا نام ظاہرنہیں کیا گیا نے مزید کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان اور ان کے اسرائیلی ہم منصب ایال ہولاٹا نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں متعدد دیگر اعلیٰ حکام سے مشاورت کی جس میں ایران پر توجہ مرکوز کی گئی۔
عہدیدار نے بتایا کہ مشاورت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر واپس نہ آنے کے امکان کی تیاری سے متعلق بات چیت کی گئی۔ مشیروں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح تہران پر دباو¿ ڈالے بغیراس کے جوہری پروگرام کو بڑھانے سے اور یورینیم کو 90 فیصد تک افزودہ کرنے سے روکنا ہے ۔ کیونکہ ایران کو جوہری بم کی تیاری کے لیے یورینیم کی 90 فی صد تک افزودگی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل 2015 کے معاہدے میں امریکہ کی واپسی سے متعلق موجودہ مسودہ معاہدے کی مخالفت کرتا ہے لیکن ہولاٹا اورسلیوان نے ایران پر دباو¿ ڈالنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا کہ تہران کی قیادت پر واضح کر دیا جائے کہ اسے ایک معاہدے کی ضرورت ہے جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ایران پر دباو¿ ڈال رہے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا