UN meeting in Doha not about interim Afghan govt recognition: Guterresتصویر سوشل میڈیا

نیو یارک:اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ دوحہ میں اقوام متحدہ کا اجلاس طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ افغانستا کے حوالے سے ایک مشترکہ بین الاقوامی نقطہ نظر کو فروغ دینے کے بارے میں تھا ۔افغانستان کی صورتحال پر دوحہ اجلاس کے بعد ، جس میں 20 سے زیادہ ممالک کے سفیروں اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی،ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوٹیریس نے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے کے تحفظات اور حدود کو سمجھتے ہیں لیکن اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سب کے خااص طور پر افغانوں کے مفاد میں ہے اس لیے مل کر کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرکا نے ایک ایسی تزویراتی اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا جو نہ صرف افغانستان کے استحکام بلکہ خدشات کو دور کرنے کی بھی اجازت دے۔انہوں نے مزید کہا کہ شرکا افغانستان کے استحکام کے بارے میں فکر مند ہیں، اور انہوں نے ان سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے جو افغانستان ، خطے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کے خطرے کی مسلسل موجودگی سے لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ مستقبل کو پیش نظر رکھنے والی فکر اور افغان عوام کو اولین ترجیح دینے کے لیے اپنا اجلاس طلب کرتے رہنا جاری رکھے گی۔

قبل ازیں قطر میں قائم سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین کے مطابق انہوں نے افغانستان پر توجہ مرکوز کرنے والے متعدد سفیروں اور خصوصی سفیروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اس لیے کیا گیا تھا کہ نگراں حکومت کے فیصلوں نے افغانستان میں بحران پیدا کر دیا ہے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار توریک فرہادی نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *