UN Refugee Agency Says 200,000 Have Fled Sudanتصویر سوشل میڈیا

اقوام متحدہ (اے یو ایس ) اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے کہا کہ سوڈان میں تشدد سے اب تک دولاکھ 20 ہزار لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، جن میں سے 60 ہزار کے لگ بھگ پڑوسی ملک چاڈ کی طرف چلے گئے ہیں۔جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ میں، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی ترجمان اولگا ساراڈو نے کہا کہ صرف پچھلے کچھ دنوں میں 30 ہزار افراد چاڈ میں داخل ہوئے ہیں، اور روزانہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرحدیں عبور کر رہی ہے۔انہوں نے اس رپورٹ کی طرف توجہ دلائی جس میں ، منگل کو مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم یا آ او ایم نےکہا ہے کہ سوڈان میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔یہ خبر سوڈان کے متحارب فریقوں کی جانب سے ملک میں انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے رہنما خطوط طے کرنے سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔اہم، مذاکرات میں شامل ایک امریکی اہل کار نے بتایا کہ اس دستاویز میں جنگ بندی شامل نہیں تھی۔

سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے ویڈیو لنک کے ذریعے جمعہ کی نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ جنگ بندی پر بات چیت جمعہ یا ہفتہ تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے کا عزم کیا۔پرتھیس نے کہا کہ دونوں فریقوں نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے چار ہفتوں کے دوران دستخط کیے لیکن جنگ بندی معاہدے کو نظر انداز کیا ہے کیونکہ دونوں کو یقین ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں، اور وہ اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ایک فیکٹری، جو کہ غذائی قلت کی خطرناک ترین شکل میں مبتلا بچوں کے علاج کی خوراک تیار کرتی ہے، جل کر خاکستر ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آگ نے تیار غذائی خوراک کے 14500 کارٹن بھی خاکستر کر دیے۔ جو چھ سے آٹھ ہفتوں تک کے لیے اتنی ہی تعدادکے بچوں کی زندگی بچانے کے لیے کافی تھے۔انہوں نے کہا کہ آج تک کی یہ سب سے تاریک مثال ہے کہ یہ تنازع کس طرح بچوں کی زندگیوں کے لیے کئی پہلوو¿ں سے خطرہ بن گیا ہے۔، سعودی عرب میں سوڈان کی فوج اور حریف ریپڈ سپورٹ فورسز کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہ اور شہریوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے کی اجازت دینا شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *