Islamic Emirate reduces, waives various taxes for traders and investorsتصویر سوشل میڈیا

کابل: امارت اسلامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے صنعتی شعبے کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ)کو 4% سے کم کر کے 2% کر دیا ہے اور زراعت، تجارت اور صنعتی شعبوں میں 7% کٹوتی ٹیکس معاف کر دیا گیاہے۔ اسلامی کے نمائندے احمد جان بلال اماراتی رہنما کے دفتر نے کابل میں وزارت خزانہ کی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 1402 پرائیویٹ اسکولوں اور دینی مدارس و یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے سیلز ٹیکس بھی معاف کردیا گیا۔ بلال کے مطابق ملک میں تجارت اور صنعت کو سہارا دینے کے لیے یہ فیصلے امارت اسلامیہ کے رہنما کے فرمان کی بنیاد پر کیے گئے۔

پریس کانفرنس میں نائب وزیر اعظم دوئم ملا عبدالسلام حنفی نے بھی شرکت کی۔انہوں نے یہ بات زور دیتے ہوئے کہی کہ صنعت اور زراعت اور تجارت کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کے لیے 7 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس معاف کر دیا گیا نیز صنعتی شعبے کو سپورٹ کرنے کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس، جو چار فیصد تھا، دو فیصد کم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ ا س وقت کیا گیا جب وزارت اقتصادیات نے یہ اعلان کیا کہ امارت اسلامیہ سرمایہ کاروں کی حمایت کرتی ہے۔ نگراں وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف نے کہا کہ گھریلو کمپنیوں کو معدنیات نکالنے کے لیے کان کنی کے شعبے میں ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ امارت اسلامیہ کی پالیسی ہے کہ ان گھریلو تاجروں اور کمپنیوں پر بھروسہ کیا جائے۔ ہم نے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دروازے کھلے چھوڑ دیے ہیں لیکن اگر وہ نہ آنا چاہیں تو ہم انہیں زبردستی نہیں لا سکتے۔ ہمیں اس سے زیادہ امید اور توقع نہیں رکھنی چاہئے، دریں اثنا وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے غیر اقامتی افغان تاجروں سے پزور اپیل کی کہ وہ وطن واپس آ جائیں۔

افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے نائب سربرا ہ محمد یونس مومند نے کہا کہ کوئی بھی تاجر جو افغانستان آتا ہے اور یہاں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس کا یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی یتیم یا بیوہ کے حلق میں پانی کا قطرہ انڈیل دیں۔ یہ میری برادرانہ درخواست ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو افغان اور مسلمان سمجھتا ہے اور جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے تو آکر افغانستان میں سرمایہ کاری کرے۔ ملک میں تجارت، صنعت، زراعت اور راہداری میں بہتری کی ضرورت ہے۔ امارت اسلامیہ ان کے پاسپورٹ اور ویزے کے لیے ضروری سہولتیں بہم پہنچائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *