West vs. China Conflict Avoidable, Says Biden as G7 Summit Wrapsتصویر سوشل میڈیا

واشنگٹن(اے یو ایس )دنیا کے سات ترقی یافتہ جمہوری ملکوں کے ساتھ تین روزہ جی سیون سربراہی اجلاس کو سمیٹتے ہوئے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ چین کا مغرب کے ساتھ تصادم سے بچنا ممکن ہے۔بائیڈن نے یہ بات ایسے موقع پر کہی ہے جب جی سیون گروپ نے بیجنگ کی جانب سے فوجی اور اقتصادی سلامتی کے خطرات کے پیشِ نظر بیجنگ پر دباو¿ بڑھایا ہے۔جاپان کے شہر ہیروشیما میں اتوار کو نیوز کانفرنس کے دوران بائیڈن نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مغرب اور بیجنگ کے درمیان تنازعہ ہونے کے تصور کے بارے میں کوئی بھی چیز ناگزیر ہے۔تاہم، بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ جی سیون ممالک اور دیگر علاقائی شراکت دار چین کی تائیوان پر ممکنہ حملے سمیت جارحیت روکنے کے لیے متحد ہیں۔

اس موقع پر بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ “ہم سب متفق ہیں کہ ہم ون چائنہ پالیسی کو برقرار رکھنے جا رہے ہیں۔”وہ اس پالیسی کا حوالہ دے رہے تھے جس کے تحت امریکہ چین کی تائیوان پر خود مختاری کے نظریے کو تسلیم کرتا ہے لیکن اس کی توثیق نہیں کرتا۔اس پالیسی کے تحت امریکہ تائیوان کی حیثیت کو غیر متعین کردہ سمجھتا ہے۔بائیڈن نے تائیوان کے “اسٹیٹس کو ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین یا تائیوان آزادانہ طور پر اعلان نہیں کر سکتے کہ وہ کیا اقدام کرنے جا رہے ہیں۔

چین اور تائیوان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں کو باہمی طور پر متفقہ نتیجہ نکالنا ہوگا۔امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ مغربی اتحادی”تائیوان سے آزادانہ طور پر آزادی کے اعلان کی توقع نہیں رکھتے۔چین تائیوان کو اپنا ایک الگ صوبہ تصور کرتا ہے جب کہ حالیہ برسوں میں بیجنگ نے اس کے ارد گرد فوجی سرگرمیوں کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ چین کے تائیوان پر حملے کے اندیشے کے حوالے سے بائیڈن نے خبردار کیا کہ امریکہ کے بیشتر اتحادی اس بارے میں واضح مو¿قف رکھتے ہیں اگر چین نے یک طرفہ طور پر کوئی کارروائی کی تو جواب دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *