نیو یارک: چین کی جانب سے زیرو کوویڈ پالیسی میں نرمی کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک بار پھر بیجنگ کوپھٹکار لگاتے ہوئے ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد میں بے پناہ اضافے کے درمیان باقاعدگی سے انفیکشن کے اصل حقائق بتانے کی درخواست کی ہے۔ ڈیٹا عالمی ادارہ صحت نے چینی صحت کے حکام سے کہا ہے کہ وہ جینوم کی ترتیب کے علاوہ کوویڈ-19 کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل ہونے، اموات اور ویکسینیشن سے متعلق ڈیٹا شیئر کریں۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد میں زبردست اضافے کے پیش نظر چین اور عالمی ادارہ صحت کے حکام نے کوویڈ 19 کی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے میٹنگ کی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ماہر اور دیگر معاونت کی پیشکش کے درمیان ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ بیان کے مطابق ڈبلیو ایچ او ایک بار پھر چین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ وبائی صورتحال کے بارے میں مخصوص اور حقیقی وقت کے اعداد و شمار کو باقاعدگی سے شیئر کرے۔ اس میں جینوم کی ترتیب سے متعلق اضافی ڈیٹا اور انفیکشن کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے والے افراد، آئی سی یو میں زیر علاج افراد، وائرس کا شکار ہونے والے افراد اور ویکسین حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا شامل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) زیادہ کمزور لوگوں کو شدید انفیکشن اور موت سے بچانے کے لیے ویکسینیشن اور احتیاطی خوراک کی اہمیت کا اعادہ کرتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میٹنگ میں چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے اعلی حکام نے وبائی امراض، اس کی نوعیت کی نگرانی، ویکسینیشن، طبی دیکھ بھال، مواصلات اور تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں چین کی حکمت عملی اور اس کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اس کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کو معلومات دیں ۔
تصویر سوشل میڈیا