کابل: افغانستان نے کہا ہے کہ سرزمین افغانستان کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔امارت اسلامیہ کے کے قائم مقام نائب وزیر اعظم عبد السلام حنفی نے پاکستان مے قومی سلامتی مشیر معید یوسف کی قیادت میں افغان حکمرانوں سے تبادلہ خیال کے لیے جانے والے پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے ملک کی سرزمین کو پاکستان سمیت دنیا کے کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق عبدالسلام حنفی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی پالیسی واضح ہے کہ ہم کسی کو بھی اپنے ہمسائیوں اور دیگر ممالک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اسی طرح کے اقدامات کا دوسروں سے بھی توقع رکھتے ہیں۔ صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عبدالسلام حنفی نے پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں توانائی، کان کنی اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔عبدالسلام حنفی نے مدد کرنے اور افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ممالک ہیں، جن کے تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور میں پراعتماد ہوں کہ یہ دوستانہ تعلقات پائیدار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنے برادر ہمسایہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، جو باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ تعلقات کو فروغ ملے۔افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور خان نے بھی ٹوئٹ میں بتایا کہ مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے عبدالسلام حنفی سے ملاقات کی اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط کرنے، تجارت، ٹرانزٹ اور رابطہ کاری بہتر کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قبل ازیں امارت اسلامیہ نائب ترجمان، انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ اس اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے دورہ کابل کا مقصد امارت اسلامیہ کے ساتھ سیاسی، سیکورٹی، تجارتی امور اور کابل اسلام آباد تعلقات کی توسیع کے بارے میں بات کرنا تھا۔ سمنگانی نے مزید کہا کہ وہ یہاں امارت اسلامیہ افغانستان کے حکام کے ساتھ مختلف سیاسی، سیکورٹی، تجارتی، اقتصادی، ٹرانزٹ اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو وسعت دینے اور مضبوط کرنے کے عمومی مسائل پر بات چیت کرنے آئے ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 