دمشق: شام میں انسانی حقوق ی نگراںادارے کے مطابق شام کی ایک جیل پر دولت سلامیہ فی العرق و الشام (داعش) کے حملے کے بعدسے جاری خونریز لڑائی میں 330سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ داعش نے اپنے ساتھیوں کو آزا کرانے کے مقصد سے20جنوری کو کردوں کے زیر کنٹرول حسکہ شہر میں واقع غویران جیل پر حالیہ برسوں میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا تھا۔
سیرین آبرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس وقت سے جاری لڑائی میں ہلاک شدگان کی تعداد اس وقت بڑھ کر 332ہو گئی جب سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو جیل کی عمارتوں اور قریبی علاقوں میں 50سے زائد لاشیں پڑی ملیں۔آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی لاشیں جیل کے اندر اور باہر دونوں سے ملیں۔
انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ درجنوں افراد زخمی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد لاپتہ بھی ہیں ڈیموکریٹک آفس کے میڈیا آفس کے سربراہ فرہاد شامی نے اے ایف پی کو بتایا جیل پر دوبارہ قبضے کے لیے آپریشن شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ساڑھے تین ہزار قیدیوں اور داعش کے حملہ آوروں نے فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
اتوار کو شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 10 دن کے طویل آپریشن کے بعد جیل کے اندر موجود داعش کے تمام جنگجوو¿ں کو پسپا کر کے جیل میں داعش کے آخری ٹھکانے کو بھی جہاں اپنے ساتھیوں کو جیل سے چھڑانے کے مقصد سے حملہ کرنے والے درجنوں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، ختم کردیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی یہ آپریشن پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ۔
تصویر سوشل میڈیا 