کابل:افغانستان کے سابق وزیر اطلاعات و ثقافت محمد طاہر ظہیر نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اطلاعات و ثقافت نے بدھ کے روز طالبان کے سامنے خود سپردگی کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے صوبہ سمنگان کے ضلع درہ صوف میں طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طالبان فورسز نے ظہیر کے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو حراست میں لے کران پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں عامر ظہیر نے ہتھیار ڈال دیے۔ پچھلے سال، ظہیر اور طالبان کے ہزارہ رہنما مولوی مہدی طالبان کے خلاف جنگ کررہے تھے ۔جس میں مہدی کی موت ہو گئی لیکن مہدی کی موت کے بعد بھی ظہیر نے طالبان کے ساتھ لڑائی جاری رکھی۔
عامر ظہیر کے خاندان والوں نے ان کے ہتھیار ڈالنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ظہیر نے کن حالات میں طالبان فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ ظہیر صوبہ بامیان کے سابق گورنر اورمعزول ا شرف غنی حکومت میں وزیر اطلاعات و ثقافت تھے۔دریں اثنا حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ غیر مستحکم اور پر آشوب ہوتا جارہا افغانستان دنیا کے لیے باعث تشویش بن رہا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 