Ansar Sheikh defied poverty, cynic society & minority myth to become India’s youngest IAS officer

تحریر:۔ نثار احمد

مسلمان گھرانوں میں اکثر سننے کو ملتا ہے کہ پڑھائی کے بعد کیا کرو گے؟ تمہیں کوئی نوکری نہیں ملے گی۔ گھر کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ پیسے کی کمی ہے۔ غربت اورپسماندگی ہے۔ کھانے کو اناج نہیں ہے۔ کتاب کاپی کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ حکومت ایسی ہے کہ نوکری نہیں دے گی۔ یہ عام خیالات ہیں اور ان خیالات میں نہ جانے کتنے مسلمان روشن خیال اور باصلاحیت نوجوان تعلیم چھوڑ کر چھوٹے موٹے کام شروع کر دیتے ہیں۔ خاندان کی غربت دور کرنے کے لیے وہ محنت مزدوری کرنے لگتے ہیں۔ محنت کرنا کوئی ب±را کام نہیں لیکن اپنی صلاحیتوں کو مارنے کے لیے یہ کام کرنا اپنے آپ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیوں کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی تعلیم پر کی گئی محنت آپ کو کامیابی کی ان بلندیوں پر لے جائے گی، جہاں آپ اپنے خاندان کی غریبی یا معاشرے کے غریبوں کی فلاح و بہبود کا کام شروع کردیں گے۔

انصار احمد شیخ بھی ایسے ہی ایک غریب گھرانے کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کم عمری میں دنیا کا مشکل ترین امتحان یو پی ایس سی پاس کیا اور آئی اے ایس آفیسر بن گئے۔ لیکن انصار کے لیے یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا۔ انصار کے والد احمد شیخ آٹو ڈرائیور تھے۔ والدہ عظمت شیخ مزدوری کرتی تھیں اور چھوٹا بھائی انیس شیخ چھٹی جماعت میں فیل ہونے کے بعد پڑھائی چھوڑ کر ماموں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ خاندان کی مالی حالت بالکل ٹھیک نہیں تھی، انصار کا گھر بھی بالکل خستہ حالی کا شکار تھا۔ ایسی حالت میں انصار گاو¿ں کے اسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ لیکن جب انصار پانچویں جماعت میں پہنچے تو لوگوں نے ان کے والد سے کہا کہ وہ انصار کی پڑھائی چھوڑ ادیں اور کوئی کاروبار کرائیں۔ انصار کے والد احمد شیخ سے کہا گیاکہ اس کی پڑھائی کا کیا بنے گا؟ کوئی نوکریاں نہیں ہیں۔ نوکری کون دے گا؟ ہمارے معاشرے (مسلم سوسائٹی) کے لوگوں کو کوئی نوکری نہیں ملتی۔

انصار کو پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بہتر ہے اسے کسی کام کے لیے رکھو۔ گھر میں دو پیسے آنے لگیں گے۔جب احمد شیخ انصار کو پڑھائی سے نکالنے کے لیے اسکول پہنچے تو اسکول ٹیچر پرشوتم پڈولکر نے انھیں ایسا کرنے سے منع کردیا۔ دراصل اسکول کے استاد پرشوتم پڈولکر نے انصار کی قابلیت کو پہچان لیا تھا۔ انہوں نے انصار کے والد کو تعلیم ترک کرانے سے منع کر دیا۔ اور کہا کہ وہ جہاں تک چاہے پڑھے۔ اسے پڑھنے سے مت روکو۔ انصار میں بہت زیادہ صلاحیت ہے۔استاد کے سمجھانے کے بعد انصار کے والد نے انصار کی تعلیم کا خیال ترک کر دیا لیکن خاندان کی غربت انصار کی تعلیم کی راہ میں حائل تھی۔ کیونکہ خاندان کی آمدنی اتنی اچھی نہیں تھی کہ انصار کو کسی اچھے سکول میں داخل کرا دیا جاتا۔ باپ ایک دن میں آٹو چلا کر بمشکل 200 سے 300 روپے کما پاتا تھا اور ماں کی مزدوری بھی زیادہ نہیں تھی۔ انصار نے بتایا کہ دسویں کی پڑھائی کے بعد چھٹیاں چل رہی تھیں۔

انہیں کمپیوٹر کا کورس سیکھنا تھا۔ کورس کی فیس تقریباً 2000 روپے تھی۔ گھر میں پیسے زیادہ نہیں تھے۔ جس کے بعد انصار نے گاو¿ں کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹر کا کام شروع کیا۔ انصار کو اس کام کے لیے 3000 روپے ملنے تھے۔انصار کے مطابق انہیں صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک ویٹر کا کام کرنا پڑتا تھا۔ انصار نے بتایا کہ وہ ریسٹورنٹ میں لوگوں کو چائے پلاتے، میز صاف کرتے۔ رات 10 بجے جب ریسٹورنٹ بند ہوتا تو وہ 11 بجے تک ریسٹورنٹ کے فرش کو جھاڑو لگا کر صاف کرتے رہتے تھے۔ حالانکہ انہیں دن میں 2 گھنٹے کا وقفہ ملتا تھا۔ ان 2 گھنٹے میں انصار دوپہر کا کھانا کھاتے اور پھر 1 گھنٹہ کمپیوٹر سیکھنے جاتے۔ اس کے بعد انصار گریجویشن فرسٹ ایئر تک پارٹ ٹائم جاب کرتے رہے۔اس دورانا ایک مرحلہ ایساآیا جس نے انصار اور ان کے اہل خانہ کو حوصلہ دیا۔ دراصل، انصار نے 12ویں کے امتحان میں 91 فیصد نمبر حاصل کیے، جس سے انصار کو علاقے میں ایک نام اور شناخت ملی۔ انصار کے ابو احمد شیخ سے لوگوں نے انصار کی کامیابی کی تعریف کی جس کے بعد انصار کی پڑھائی اور ترقی ہوئی، حالانکہ انصار کی تعلیم کے لیے پیسے کی ہمیشہ کمی رہتی تھی۔

انصار کے لیے ان کے چھوٹے بھائی انیس شیخ محنت مزدوری کرکے پیسے بھیجتے رہے، تاکہ انصار ن اپنی مزید تعلیم جاری رکھ سکیں۔تاہم اب تک انصار شیخ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ آئی اے ایس بننا چاہتے ہیں۔ آئی اے ایس بننے کی کہانی اور بھی دلچسپ ہے۔ دراصل انصار کو ایک اسکیم کے تحت 30 ہزار روپے ملنے والے تھے، یہ اسکیم بی پی ایل کنبوں کے لیے ہوتی تھی۔ بی پی ایل خاندان وہ خاندان ہیں، جن کی شناخت غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے خاندانوں کے طور پر کی جاتی ہے۔ تاہم جب انصار شیخ کے والد اس سکیم کا چیک لینے تحصیل دفتر پہنچے تو وہاں موجود افسر نے کہا کہ اگر 10 فیصد روپے یہاں بطور رشوت دینے پڑیں گے۔ اس کے بعد انصار کو لگا کہ اگر وہ اس رشوت کے خلاف کچھ کرنا چاہتا ہے تو انہیں افسر بننا پڑے گا۔

اس کے بعد ان کے ایک سینئر نے انہیں یو پی ایس سی کے بارے میں بتایا، جس کے بعد انصار نے فیصلہ کیا کہ وہ افسر بننا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انصار نے محنت شروع کر دی۔ انصارجو روزانہ 12-12 گھنٹے پڑھتے تھے، 2015 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں یو پی ایس سی میں منتخب ہوئے۔ 21 سال کی عمر میں آئی اے ایس بننے والے انصار کا رینک 371 واں تھا۔ اس وقت وہ مغربی بنگال کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں اور وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انصار کے مطابق خواب دیکھنے کے لیے پیسے کی کیا ضرورت ہے۔ غریب کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے اور جیتنے کے لیے سب کچھ ہے۔ اسی لیے محنت اور ایمانداری سے کامیابی مل سکتی ہے۔ انصار اپنی کامیابی کا سہرا ابو امّی کے علاوہ اپنے بھائی اور اساتذہ کو دیتے ہیں۔ انصار کا کہنا ہے کہ اگر ان کے استاد نے ابو کو پڑھائی سے روکا نہ ہوتا تو شاید وہ افسر نہ ہوتے اور کہیں آٹو چلا رہے ہوتے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فری لانس صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں۔)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *