کابل: اپنے اچانک دورہ افغانستان کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک بیان جا ری کر کے کہا کہ چین کو امید ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت کا قیام عمل میں آجائے گا اس کے ساتھ ہی انہوں نے افغانستان کے لیے چین کی حمایت کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے امارت اسلامیہ کی حکومت کے مختلف عہدیداروں سے ملاقات کے دوران، سیاسی اور اقتصادی مسائل کے حل اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں کابل کے ساتھ بیجنگ کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔چین کے وزیر خارجہ نے ، جو جمعرات کو افغانستان پہنچے تھے، بیان میں مزید کہا کہ چین افغانستان پر سیاسی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ عبوری حکومت افغانستان میں دانشمندانہ پالیسیوں کے ساتھ ایک جامع سیاسی ڈھانچہ قائم کرے گی۔
وانگ یی نے اول نائب وزیر اعظم ملا عبد الغنی برادر، قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی۔دریں اثنا امارت اسلامیہ روسی اور چینی حکام کے دورے کو دنیا کے ساتھ موجودہ حکومت کے تعلقات کو وسعت دینے اور مضبوط کرنے میں اہم سمجھتی ہے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار شہزادہ مسعود نے کہا کہ ان کے خیال میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ روس اور چین افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ امارت اسلامیہ کے حکام نے چین کے ساتھ اچھے روابط پر زور دیا اور کچھ پراجکٹوں کو جاری رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔ چین اور روس عظیم طاقتیں ہیں اور امریکہ کے دیرینہ حریف ہیں۔ افغانستان میں جمہوریہ کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک نے کابل میں اپنے سفارتخانوں کو فعال رکھا ہے اور ہمیشہ اسلامی امارت کی حکمران حکومت کے ساتھ بات چیت پر زور دیا ہے۔
تصویر سوشل میڈیا 