نئی دہلی:چین نے ،جو ہندوستان کو گھیرنے کے لئے بے چین ہوا جا رہا ہے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر نا شروع کر دیے ہیں اور اب اس نے اسرائیل سے ہتھیار خریدے ہیں ، چین ہر طریقے سے اسرائیل سے ہتھیا ر خریدنے کی کوشش میں لمبے وقت سے لگا ہوا ہے لیکن اسرائیل نے ابھی تک ایک بھی ہتھیار چین کو فروخت نہیں کیا تھا لیکن اس بار اسرائیل کی تین کمپنیوں نے چین کو ہتھیار بیچے ہیں جو ہتھیار بیچے گئے ہیں وہ چھوٹے موٹے ہتھیار نہیں بلکہ کروز میزائل ہیں اس طرح سے چین اسرائیل کی کروز میزائل کو تکنیک پانے میں کامیاب ہوگیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل جو ہندوستان کا دوست ملک ہے اور اس بات سے اچھی طرح بخوبی واقف ہے کہ چین بھارت کا دشمن ہے پھر بھی اسرائیل نے چین کو کروز میزائل کیوں بیچے؟دراصل اسرائیل کی 3کمپنیاں اور ان میں کام کرنے والے 10مشکوک لوگ چین کو کروز میزائل ایکسپورٹ کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
یہاں پر حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تینوں کمپنیوں کے پاس میزائل ایکسپورٹ کا کوئی پرمٹ بھی نہیں ہے۔یہ بات اسرائیل کے معاشی ڈیپارٹمنٹ کی جانچ میں سامنے آیا ہے۔اسرائیل کے سٹیٹ اٹارنی نے ان کے خلاف کیس درج کیا ہے اور فرد جرم تیار کی جائے گی۔اٹارنی نے آگے کہا ہے کہ ان کمپنیوں اور ملزموں کے خلاف ملک کی سلامتی کے خلاف بغاوت کرنے کا مقدمہ چلایا جائے گا۔اس کے علاوہ ان پر ہتھیاروں کے سیکٹر میں جرم،دیش کے دفاعی ایکسپورٹ کنٹرول قانون کے تحت جرم کا معاملہ چلے گا اور دھن سے جڑے جرم کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔اسرائیل کی افرائم مناشے کمپنی جو سولر سکائی کمپنی کا مالکانہ حق رکھتی ہے اور کروز میزائل کی تعمیر کرتی ہے اس نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ سودا طے کیا تھا جو چین کی سینا کو کروز میزائل سپلائی کرنے کا کام کرتی ہیں۔چین کو کوئی بھی ہتھیار بیچنے کا مطلب ہے کہ چین بین الاقوامی پیمانوں کو طاق پر رکھ کر اس تکنیک کے ساتھ رورس انجینئرنگ کر اس کے کئی ماڈل خود بنا لیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی دیش نے ایک تکنیک ایجاد کرنے میں 2سے 3 عشروں تک محنت کی اور چین اس تکنیک کو چرا لیتا ہے پھر اس تکنیک پر بنی مصنوعات کو بہت سستے داموں پر دنیا کے دوسرے دیشوں کو بیچتا ہے۔مقدمہ صرف مناشے گروپ پر نہیں چلے گا بلکہ ان لوگوں پر بھی چلے گا جنہوں نے اس پورے سودے میں ثالثی کی،سیون گازٹ اور یوپی ساچر یہ دونوں سکیورٹی صلاحکار کمپنی کے مالک ہیں۔یہ کمپنی اسرائیل میں فارن ایکسچینج اور اسرائیل کی ٹیک کمپنیوں کے بیچ ثالثی کرتی ہیں۔
اسرائیل کی اس کمپنی نے نہ صرف چین کو کروز میزائل اسمگلنگ کے ذریعے بیچے بلکہ اس کا خفیہ طریقے سے اسرائیل میں تجربہ بھی کیا جس کی بھنک اسرائیل کی سرکار کو نہیں لگی۔سرکار کی چھاپے ماری میں ان کے پاس سے کچھ اور کروز میزائل بھی نکلیں۔یہ بات ہندوستان کیلئے بھی تشویش کا سبب ہے کیونکہ پچھلے کچھ سالوں میں ہندوستان نے اسرائیل سے بہت سارے ہتھیار خریدے ہیں جس کی پہنچ چین تک نہیں ہے لیکن اب چین کے پاس اسرائیلی ہتھیاروں کے پہنچنے سے اس سے چین کا مکاری بھرا چہرہ سامنے آتا ہے جس کے تحت وہ مغربی ٹیکنیکل ہتھیاروں کو حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی طریقہ اپنانے سے باز نہیں آتا اور اس تکنیک کو چین کی تکنیک بھی بتایا کرتا ہے۔پوچھ تاچھ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چین پیسے اور دوسری سہولات کے زور پر ان سے یہ ہتھیار خرید رہا تھا۔لیکن جیسے ہی یہ باتیں اسرائیل سرکار کے نوٹس میں آئی سرکار نے فوراً ایکشن لیا اور دھر -پکڑ شروع کر دی۔ان لوگوں کے بیانوں اور چھان بین میں جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ چونکانے والی ہیں۔پتہ چلا ہے کہ چین ان لوگوں کو ہتھیاروں کے آرڈر دیا کرتا تھا جس کی یہ لوگ فراہمی کرتے تھے اور اس سے پہلے ان ہتھیاروں کا تجربہ کیا جاتا تھا۔
اسرائیل میں اسلحہ سازی میں 1600لائسنس والے ہتھیاروں کے برآمد کار ہیں اور اس پورے محکمے میں قریب 2لاکھ لوگ کام کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کے درمیان چھوٹے کانٹریکٹروں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔اس میں فراہمی،ہتھیار سازی،سافٹ ویئر ڈیولپر،کچے مال سمیت باقی سامان کے سپلائروں کی ایک لمبی فہرست ہے،اسرائیل میں ہتھیاروں کے تیار کیے جانے اور پھر برآمد کیے جانے پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے ی ای سی اے کو بھی اس گورکھ دھندے کی خبر نہیں تھی اور سب کچھ سرکار کی ناک کے نیچے بڑی صفائی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ان سب کے پیچھے چین کی مکاری اور چالاکی شامل ہے۔ابھی جو ہتھیار چین بنا رہا ہے وہ اس معیار کے نہیں ہیں کہ مغرب کی طاقتوں سے مقابلہ کر سکیں اسی لئے چین دھوکے اور چال بازی سے مغرب کے ہتھیاروں کو چین منگوا کر اس کی نقل بنا کر اپنے دفاع میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس تکنیک کو ہتھیاروں کے دوسرے خریدار دیشوں کو بیچنا چاہتا ہے جس سے وہ خاصا منافع کما سکے۔چین کی اس حرکت پر خاص طور پر مغربی طاقتوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اپنے ہتھیاروں اور ان کی تکنیک کو چوری کو روکنا ہوگا بصورت دیگر چین اپنی خطرناک چال میں بہت آگے نکل جائے گا جو پوری دنیا کے امن و استحکام کیلئے بڑا خطرہ ہوگا۔
تصویر سوشل میڈیا 