China, Turkey likely to skip G20 meet in Kashmirتصویر سوشل میڈیا

نامعلوم مقام:گروپ 20کے حوالے سے واقف کاروں کے مطابق چین اور ترکی جو جی 20 کے رکن ممالک میں شامل ہیں، آئندہ ہفتے جموں و کشمیر کے دارالخلافہ سری نگر میں منعقد ہونے والے جی 20کے سیاحتی ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں کئی دیگر ممالک بھی اس اجلاس میںنچلی سطح کی شرکت کریں گے۔ڈل جھیل کے کنارے واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشنل سینٹر میں 22 تا24 مئی کے دوران منعقد ہونے والے اس اجلاس کو اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد کشمیر میں منعقد ہونے والے سب سے بڑے بین الاقوامی پروگراموں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ وا ضح نہیں ہے کہ آیا انڈونیشیا، جو جی 20 کا آخری صدر اور گروپنگ ٹرائیکا کا رکن ہے، سری نگر میں ہونے والی میٹنگ میں شرکت کرے گایا نہیں ۔

دوسری جانب ہندوستان نے جموں و کشمیر اور لداخ میں جی 20 اجلاسوں کے انعقاد پر پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر میں نئی دہلی میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ چین، جس نے مارچ میں اروناچل پردیش میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی، اور ترکی سری نگر میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ چین کا یہ فیصلہ بظاہر اس کے قریبی اتحادی پاکستان کے اعتراضات سے وابستہ ا ہے جب کہ ترکی گزشتہ کئی برسوں میں کشمیر کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کو ہدف تنقید بنایا ہوا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میزبان ممالک جی 20پروگراموں کے انعقاد کے لیے اپنی پسند کے مقامات کا انتخاب کر سکتے ہیں، اور چونکہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے، اس لیے ہندوستان یہ اجلاس سری نگر میںمنعقد کر نے کے حق میں ہے اس اجلاس کو اگست 2019 میں جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں منعقد ہونے والے سب سے بڑے بین الاقوامی پروگراموں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *