China warns Pakistan after Karachi blast kills 3 Chineseتصویر سوشل میڈیا

بیجنگ: پاکستان میں کراچی یونیورسٹی کے باہرایک وین کو نشانہ بنا کر ریموٹ سے کیے گئے دھماکے میں اپنے تین شہریوں کی ہلاکت پر چین شدید برہم ہوگیاہے۔ چین نے پاکستان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سکیورٹی میں اضافہ کرے اور کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس حملے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والے تازہ حملے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چینی شہریوں کا خون بہایا نہیں جا سکتا اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو قیمت چکانی ہوگی۔پاکستان کے صنعتی دارالحکومت کراچی کی یونیورسٹی میں ایک برقع پوش خودکش خاتون حملہ آور نے منگل کو ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا، جس میں تین چینی شہری اور ایک دیگر کی موت ہوگئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کے معاون وزیر خارجہ وو جیانگ ہا و¿نے چین میں پاکستانی سفیر کو فوراً فون کیا اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس دوران وو نے کہا کہ پاکستانی فریق کو فوری طور پر واقعے کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے، مجرموں کو پکڑ کر سزا دینی چاہیے اور پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔ یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے مجید بریگیڈ نے قبول کر لی ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور امریکہ میں کالعدم قرار دیے گئے علیحدگی پسند گروپ بی ایل اے کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ بریگیڈ کی پہلی خاتون خودکش بمبار، شری بلوچ عرف برامش نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ بلوچ مزاحمت کی تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔اس حوالے سے یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین چینی شہری شامل ہیں جن کی شناخت کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہوانگ گوپنگ، ڈنگ موپینگ، چن سا اور پاکستانی ڈرائیور خالد کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دھماکے میں دو دیگر افراد وانگ یوکنگ اور حامد زخمی ہوئےا اس ادارے میں چینی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ چین نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لیے گہرے دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی زخمیوں اور متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *