نئی دہلی: روسی افواج کے کریمیا کے راستے یوکرین میں داخل ہونے کے بعد دنیا بھر میں تشویش اور خدشات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ یوکرین میں بڑی تعداد میں ہندوستانی پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حال ہی میں یوکرین سے واپس آنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن کچھ ایسے طلبا بھی ہیں جو عین واپسی کے وقت روسی حملہ کے باعث وہیں پھنس گئے اور انہیں ایرپورٹ پہنچنے سے پہلے راستے سے ہی واپس کر دیا گیا۔
ان طالبات و طلبا کے گروپ میں شامل ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کی مہ فیصل نام کی ایک طالبہ کی، جو ممبئی کے ممبرا کی رہائشی ہے، دہلی کے جوشی محلہ میں اقامت پذیر رشتہ دار محمودہ ابو زید نے بتایا کہ مہ فیصل انصاری جو یوکرین میں لفیف نیشنل میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کر رہی تھی تعطیلات میں اپنی کئی ساتھی طالبات اور دو طلبا کے ساتھ جن کا جمعرت کا ہی ٹکٹ تھا ہندوستان واپس آنے والی تھی لیکن اچانک حملہ کے باعث وہ وہیں پھنس گئی ۔ مہ فیصل نے واٹس اپ پر محمودہ ابو زید کو آڈیو پیغام بھیجا جس میں اس نے بتایا ہم پانچ طالبات 23فروری کی شب لفیف شہر سے قیف روانہ ہوئے ۔24فروری جمعرات کے روز قیف ہوائی اڈے سے ہماری فلائٹ تھی ۔ہم ٹرین سے روانہ ہوئے ۔ 8گھنٹے کاسفر تھا لیکن پانچ گھنٹے کا ہی سفر طے ہوا تھا کہ ٹرین میں ہی ہمیں مطلع کیا گیا کہ روس نے ملک پر حملہ کر دیا ہے اور تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
تاہم ہم کیف اسٹیشن پہنچ گئے اور ہماری سہلیوں کے ذریعہ بندوبست کیے گئے محفوظ مقام پر پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہاں نہ کوئی بس دستیاب تھی اور نہی کوئی کیب مل رہی تھی۔ اور نہ ہی کوئی ٹرین لفیف واپس جانے والی تھی۔ ہم نے اسٹیشن کے قریب ہی اے آئی آر بی این بی میں کمرے کرائے پر لیے اور اب محفوظ ہیں۔ ہندستانی سفارت خانہ نے ہمیں مشرہ دیا ہے کہ جب تک سفارت خانے سے کوئی ہدایت نہ موصول ہو اس جگہ سے کہیںنہ جائیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فضائی پٹی بند کر دی گئی ہے ۔
واضح ہو کہ ایئر انڈیا کی خصوصی پرواز کو، جو ہندوستانیوں کی ایک اور کھیپ کو واپس لا نے گئی تھی، فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے شہری ہوا بازی کے لیے ممکنہ خطرہ کے پیش نظر درمیان میں ہی واپس جانا پڑا۔ لیکن جو طلبا واپس آگئے ہیں انہوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وہاں ہر لمحہ خوف کے سائے میں گزر رہا تھا انہیں ہندستان آکر سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ اس وقت بھی طلبہ کی ایک بڑی تعداد یوکرین میں پھنسی ہوئی ہے ۔
تصویر سوشل میڈیا 