Indo- UAE relations soar to new heightsتصویر سوشل میڈیا

شیخ منظوراحمد

دبئی🙁 اے یو ایس )ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات بلندیوں کو چھورہے ہیں اور اسٹریٹجک پارٹنر شپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ تعلقات نہ صرف اقتصادی شعبے تک ہی محدود ہے بلکہ دفاع،ٹیکنالوجی ، سرمایہ کاری اور دوسرے اہم امور کے لیے بھی قابل ذکر ہے۔ ایک طرف ہندوستان اور متحدہ عرب امارات دوطرفہ تجارت کو ایک سو بلین ڈالر اگلے سال تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے تو دوسری طرف حکومت ہند نے مشرق وسطیٰ کے خطہ کے امن وامان کے لیے امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک گروپ تشکیل دی جو مختلف امور پر مشترکہ پالیسی اپنائے گی۔چونکہ سیاسی امور پر ان چاروں ملکوں میں ہم آہنگی ہے اس لیے سرمایہ کاری اور تجارت کو بڑھانے میں بھی اس گروپ کی تشکیل سے زبردست مدد ملے گی، آہستہ آہستہ سیکورٹی اور فوجی امور میں بھی شرکت کا دائرہ بڑھایاجائے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نریندر مود ی کے وزیراعظم بننے کے بعد زبردست اچھال آیا۔وزیراعظم نے 2015میں ابوظہبی کا دورہ کیا جو تاریخی ثابت ہوا اور ان کی ملاقات ابوظہبی کے ولی عہد کے ساتھ کافی مفید رہی۔اس دورے کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے اہم رہنماو¿ں کے دوروں کا تانتا لگارہا ۔متحدہ عرب امارات نے ایک تاریخی فیصلہ لیا جب انہوں نے ہندوستان کے وزیرخارجہ کو تنظیمی اسلام کانفرنس کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بحیثیت مہمان بلایا۔حالانکہ اس سے پاکستان کے وزیرخارجہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اب دونوں ملک اقتصادی شراکت داری کے منصوبے کو آخری شکل دینے کی کوشش کررہی ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفیر احمد البناں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ اس منصوبے کو جلد ہی پائے تکمیل تک پہنچایاجائے گا اور اس سے تجارت ،سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو بہت فائدہ ہوجائے گا۔

پچھلے سال متحدہ عرب امارات ہندوستان کا دوسرا بڑا اقتصادی شراکت دار رہا۔دونوں ملکوں نے52 بلین ڈالر کا تجارت کیا اس میں خام تیل موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف ہوائی کمپنیوں کو بھی خلیجی ملکوں کا روٹ سب سے زیادہ فائدہ مند رہا۔متحدہ عرب امارات نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے بھی نمایاں رول اداکیا۔دونوں ہمسایہ ملکوں نے پچھلے سال جنگ بندی شروع کی جو ابھی تک قائم ہے۔سفیر احمد البناں نے تعلقات کوبڑھاوا دینے میں نمایاں رول اداکیا۔عالمی اردوسروس کے نمائندے شیخ منظوراحمد نے مختلف سیاسی مبصرین کے ساتھ یہ تاثرحاصل کیا کہ توانائی کے علاوہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعلقات کو بڑھانے میں وسیع گنجائش ہے۔

ہندوستان نے ابوظہبی ایکسپو میں بڑے پیمانے پر حصہ لیا اور ہندوستان کا پاویلین شائقین کی دلچسپی کا توجہ کا مرکز رہا۔ڈاکٹرالبناں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ دفاعی امور اور سیکورٹی کے معاملات پر بھی بات ہورہی ہے اس کے علاوہ سائبر سیکورٹی شعبے میں بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔سفیر موصوف نے کہا کہ تقریبا 30لاکھ ہندوستانی امارات کے ترقی میں شانہ بشانہ حصہ لے رہے ہیں، ہندوستان ،اسرائیل اور امارات کے درمیان اشتراک ترقی کے نئے راستے کھول دے گا۔اس نے دونوں ملکوں کے قیادت کے دوراندیشی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماو¿ں نے ترقی کی راہوں کو نئی منزلوں سے ہمکنار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *