تہران: (اے یو ایس ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران اپنے ملٹری ڈرونز کے زیرِ زمین اڈوں سے متعلق معلومات منظر عام پر لایا ہے تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے یہ اڈے کس مقام پر ہیں ۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا کا ہفتے کو کہنا تھا کہ زگراس کے پہاڑی سلسلے میں 100 ڈرون موجود ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہاں میزائل بھی نصب ہیں جو کہ فضا سے سطح پر مار کرنے والے امریکہ کے ہیل فائر کا ایرانی ساختہ ماڈل ہیں۔ایران نے 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ برس تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران انسانوں کے بغیر چلائے جانے والے ڈرونز کی تیاری شروع کی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے درپردہ حامیوں کو ڈرون بھیجتا رہا ہے جن میں لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ، شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں۔آرمی کمانڈر میجر جنرل عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج خطے کی طاقت ور ترین فورسز ہیں۔موسوی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ڈرونز کو مزید جدید کرنے کی صلاحیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس کے نمائندے رپورٹ کیا کہ اس نے ملک کے مغرب میں کرمان شاہ سے خفیہ زیرِ زمین ڈرون سائٹ تک جمعرات کو ہیلی کاپٹر کی 45 منٹ کی پرواز کی۔
نمائندے کا کہنا تھا کہ انہیں اڈے پر پہنچنے پر ہی آنکھوں سے پٹی اتارنے کی اجازت دی گئی۔ٹی وی پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں ٹنل میں میزائلوں سے لیس ڈرونز کی قطاریں دکھائی گئیں جو کہ نمائندے کے مطابق سینکڑوں میٹر زیرِ زمین تھی۔سرکاری ٹی وی کی یہ رپورٹ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے خلیج میں دو یونانی ٹینکروں کو قبضے میں لیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جو کہ یونانی ساحل کے قریب روکے گئے ایک ٹینکر سے امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی ضبطی کی بظاہر انتقامی کارروائی لگتی ہے۔رپورٹس کے مطابق یونانی حکام نے گزشتہ ماہ یورپی یونین کی عائد کردی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی پرچم والے پیگاس کو ضبط کر لیا تھا۔ جس میں عملے کے 19 روسی اراکین سوار تھے۔
تصویر سوشل میڈیا 