زرنج (نمروز):صوبہ نمروز کے رہائشیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امارت اسلامیہ کی افواج اور ایرانی سرحدی محافظوں کے درمیان حالیہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب افغانستان پر ایرانی سرحدی محافظوں نے فائرنگ کی۔ بعد ازاں، امارت اسلامیہ کی وزارت دفاع نے کہا کہ ایرانی فوجیوں نے صوبہ نمروز کے ضلع کانگ کے سرحدی علاقے میں ایک بار پھر فائرنگ شروع کردی۔جس سے فریقین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ وزارت دفاع نے ٹویٹر کے توسط سے کہا کہ جنگ شروع کرنے کا بہانہ بنانا اور منفی کارروائیاںکرنا کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے اور امارت اسلامیہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کو ایک معقول طریقہ سمجھتی ہے۔ مقامی باشندوں نے اس بات پرزور دیا کہ وہ جاری مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
علاقہ کے قیوم نام کے ایک رہائشی نے کہا کہ پہلی گولی ہمارے پڑوسی ایران نے چلائی- وہ ایسی ہلاکت خیز کارروائیاں نہ کریں۔ اگر انہیں کوئی مسئلہ یا شکایت ہے ، تو انہیں اعلیٰ حکام سے بات کرنی چا ہئے لیکن رہائشی علاقوں پر گولیاں نہیں چلانی چاہئیں انہیں ہم پر حملہ کرنے یا مارٹروں کا استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہاں لوگ رہتے ہیں اور ایک شہر ہے۔ ایک مقامی رہائشی محمد داو¿د نے کہا کہ انہیں (ایرانیوں) کو ایسی کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنافع تکور نے ہفتے کے روز ٹویٹر پر کہا کہ صوبہ نمروز میں ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے ۔ہلاک شدگان میں ایک ایرانی ہے اور دوسرے کا تعلق افغانستان سے ہے نیز کچھ دیگر زخمی ہوئے۔ اس طرح کی جھڑپوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ایک بزرگ فوجی اسد اللہ ندیم نے کہا کہ اگر کوئی فریق اپنی داخلی پالیسیوں کے مفاد میں اس طرح کی جھڑپوں کا غلط استعمال کرنا چاہتا ہے تو وہ سراسر غلطی پر ہے۔ ایرنا کی رپورٹ کے مطابق جھڑپوں میں دو ایرانی محافظ ہلاک اور دو شہری زخمی ہوئے۔
تصویر سوشل میڈیا