کابل:امارات اسلامیہ افغانستان کے نگراں وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر نے کہا ہے کہ افغانستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے خوشگوار رشتوں کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستانی سفارت خانہ واقع افغانستان کے انچارج عبید رحمان نظامانی سے بالمشافہ ملاقات میں یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کا ملک افغانستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ نیک نیتی پر مبنی اچھے تعلقات چاہتا ہے ،ایسے تعلقات جو معاندانہ جذبات و دو فصلی پالیسیوں سے پاک ہوں۔ نگراں وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران یہ بھی کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو کو علاقائی راہداری اور دیگر اقتصادی شعبوں میں اپنے تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
نظامانی نے ٹوئیٹ کر کے کہا کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ دنیا کے روابط، افغانستان کے منجمد اثاثوں کے جاری کیے جانے اور افغانستان میں انسانی امداد کی توسیع کے حوالے سے پاکستانی عہدیداروں نے ہمیشہ مثبت نظریات پیش کیے ہیں۔ نائب وزیراعظم(سیاسی امور) کے دفتر کے پریس ڈائریکٹر محمد حسن حق یار نے کہا کہ ملاقات کے دوران ٹرانزٹ اور ویزوں کی سہولت، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے درمیان سفر میں درپیش چیلنجز کے حل، افغان مہاجرین کی حالت زار ، اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی کیونکہ وزیراعظم کے نائب برائے انتظامی امور ملا عبدالسلام حنفی نے کراچی میں امارت اسلامیہ کے قونصل خانے سے ملاقات میں کہا تھا کہ بیرون ملک افغانستان کے م سفارت خانوں کو دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ضیا احمد تکل نے کہا کہ میٹنگ میں پاکستانی سفارتخانے اور افغانستان کی وزارت خارجہ قونصل خانے کی ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا جس کا مقصد آمدورفت میں آسانی پیدا کرنا ہے۔