Israeli P M Naftali Bennett announced to form civilian national guard to fight Palestinian attacksتصویر سوشل میڈیا

تل ابیب: (اے یو ایس ) انٹیلی جنس رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلیوں اور اسرائیلی اہداف کے خلاف کارروائیوں کی روشنی میں سیکورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے منعقد اجلاسوں کے بعداسرائیل نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سول نیشنل گارڈز تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ ماہ کے آغاز پر مذکورہ فورس کی تشکیل اور اس کے لیے مطلوبہ بجٹ مختص کرنے کے سلسلے میں داخلہ سیکورٹی کی وزارت کے ساتھ رابطہ کاری انجام دے۔ بینیٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اسرائیل کے شہریوں کے ذاتی تحفظ کے احساس کو مضبوط بنانا ہے جو وہ مئی کے واقعات کے سبب کھو چکے ہیں۔ بینیٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں اسلحہ رکھنے کی شدید ضرورت ہے۔

منصوبے کے مطابق نئی فورس کی تشکیل میں سرحدی محافظین کے علاوہ تربیت یافتہ رضا کاروں کی بھرتیوں اور ریزرو فوجیوں پر اعتماد کیا جائے گا۔دوسری جانب حماس رہ نما یحییٰ السنوار کی ہلاکت کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کے درمیان اسرائیلیوں کے بیچ اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ سیکورٹی ذمے داران نے حماس رہنما کو قتل کرنے کے دور رس نتائج سے خبردار کیا ہے۔ ساتھ اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کی کسی بھی کارروائی سے حماس کے ساتھ عسکری مقابلے کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔ادھر اسرائیلی پولیس اور جنرل سیکورٹی ادارے (شاباک) نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کی شب العاد قصبے میں چاقو سے حملہ کرنے والے دو فلسطینیوں اسعد الرفاعی اور صبحی ابو شقیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل سیاسی جماعتوں اور سابق سیکورٹی ذمے داران کی جانب سے انٹیلی جنس اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مذکورہ دونوں حملہ آوروں کا پکڑا جانا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں اشتعال انگیزی کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا اشارہ حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کی جانب تھا۔ السنوار نے فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ وہ کلہاڑی اور بغدے کے ذریعے قابض اسرائیل کے خلاف لڑیں۔بینیٹ کا ذکر کردہ نیا مرحلہ دراصل وہ اجلاس ہیں جن میں سیکورٹی کی صورت حال اور مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ ساتھ پولیس کا بھی یہ کہنا ہے کہ فلسطینی شہری اور فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل کے خلاف کارروائیاں ہر گز نہیں روکیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *