Kandahar residents protest Pakistani attacks on Afghan soilتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھار کے رہائشیوں نے خوست اور کنڑ صوبوں پر پاکستانی حملوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔16اپریل کو پاکستانی فوج نے خوست صوبہ کے سیپیری علاقہ پر بمباری کی اور کونار صوبہ کے شیلتن ڈسٹرکٹ کو بھی نشانہ بنا کر گولہ باری کی۔ ایک احتجاجی نے کہا کہ سب خاموش ہیں کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔ ہم اسلامی امارات سے مطالبہ کرتے ہیں وہ پاکستان کو منھ توڑ جواب دے۔ مظاہرین میں شامل سمع اللہ مخلص نام کے ایک شخص نے کہا کہ ہماری سرزمین پر پاکستان کے غیر قانونی حملے بند ہونے چاہئیں۔ ایک اور شہری گلاب شاہ نے جو مظاہرین میں شامل تھا کہا کہ کوئی ایکشن نہیں لے رہا ہے۔ ہم امارت اسلامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو منہ توڑ جواب دے۔

دریں اثنا، افغان سفارتی مشن کی قیادت میں سابق افغان حکومتی اہلکاروں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان حملوں کو افغانستان کی فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سے پہلے بھی جنوبی خوست اور مشرقی ننگر ہار صوبوں کے رہائشیوں نے پاکستانی حملوں کے خلاف زبردست مظاہرے کیے تھے۔ایک سابق سفارت کار نور اللہ راغی نے کہا کہ افغان سرزمین پر پاکستانی فضائی حملے یکسر جارحانہ کارروائیاں اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں، جس میں بے قصور اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان طالبان کو کم آنک رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی امارات مسئلہ کو سفارتی طور پر حل کرنے کی کوششوں کی بات کرتی ہے، اس بات پر زور دیتی ہے کہ اگر اس طرح کے حملے دہرائے گئے تو وہ افغانستان کا دفاع کرے گی۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے اور اس قسم کی کارروائیوں کو دوہرانے نہیں دیں گے اور ہمیں سفارت کاری کے ذریعہ اسے حل کرنا چاہیے۔ قبل ازیں پاکستانی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان دہشت گردوں نے ڈیورنڈ لائن سے سر زمین پاکستان پر حملے کیے۔ تاہم امارت اسلامیہ کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کو کبھی بھی کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *