اسلام آباد:پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ایک بار پھر افغان شہریوں پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
منیر نے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں عدم تحفظ خطے کو فائدہ نہیں پہنچا رہا ہے اور مزید کہا کہ وہ دہشت گردوں کو تباہ کرنے اور تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ جنرل منیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا علاقائی امن، استحکام نقصان دہ اور اور عبوری افغان حکومت کی طرف سے دوحہ امن معاہدے سے انحراف ہے، ایک سیاسی تجزیہ کارعزیز مریج نے کہاکہ پاکستانی حکام بالخصوص پاکستانی فوج کے ذریعہ دستاویزی ثبوت پیش کیے بغیر یہ دعوے کہ افغان شہری پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ہیں،مغربی ممالک کی پالیسی ہے جس پر پاکستانی فوج عمل کر رہی ہے۔
امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی عہدیدار کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں ہو گی۔ امارت اسلامیہ افغانستان کسی کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرے۔مجاہد نے کہاکہ اگر اس سلسلے میں کوئی تشویش ہے تو اسے براہ راست امارت اسلامیہ کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہئے۔
سیاسی تجزیہ کار واحد فقیری نے کہاکہ پاکستان اپنے سیکیورٹی مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے موجودہ افغان حکومت کو ذمہ دار بنانا چاہتا ہے۔ اس کی فوج ہو، انٹیلی جنس ہو، یا پولیس، اپنی نااہلی کا الزام دوسروں پر لگانا چاہتی ہے اور وہ ہمیشہ افغانستان یا ہندوستان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ایک اور سیاسی تجزیہ کار جنت فہیم چکری نے کہاکہ پاکستان افغانستان کی خارجہ سیاست کو اسی طرح سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں ساڑھے چار عشروں میں افغانستان کی خارجہ پالیسی کی کی تھی۔
تصویر سوشل میڈیا 