Protests at Khosa and Paktika on July 27 against cross-border rocket attacks by Pak security forcesفائل فوٹو

کابل: افغانستان کے صوبہ کونر کے اسد آباد ڈ اور سارا کوٹ شہروں میں پاکستانی سلامتی دستوں کے حملوں اور فوجی چوکیاں قائم کر کے غیر قانونی طور سے افغان علاقوں میں پاکستانی فوجیوں کی در اندازی کی کوششوں کے خلاف پکٹیکا اور خوست صوبوں میں زبردست احتجاج کیا گیا۔جس میں ہزاروں افغانوں نے پاکستان مخالف نعرے لگائے۔

واضح ہو کہ دو شنبہ کو پاکستانی سلامتی دستوں نے سرحد پار سے افغان چوکیوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کرگولہ باری کی جس میں انہوں نے اسد آباد ڈسٹرکٹ میں 12راکٹ حملے کیے اور ساراکانو ڈسٹرکٹ میں 160سے زائد گولے داغے۔ان حملوں میں افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز کے چار اہلکار اور چھ شہری بشمول دو خواتین ہلاک ہو گئے۔

پاکستانی سلامتی دستوں کے حملوں میں رہائشی علاقوں میں واقع شہریوں کی بہت سی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔سرحد پار سے ان حملوں کے خلاف پکتیا، پکٹیکا اور خوست صوبوں میں دو روزہ مظاہروں کی کال پر مظاہروں کا آج دوسرا روز ہے ۔

منگل کو بھی ہزاروں افغانوں سے اس احتجاج میں حصہ لیا۔اس ضمن میں جہاں ایک طرف افغانستان کے پکٹیکا اور خوست صوبوں کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے وہیں افغانستان نے اقوام متحدہ میں اپنے مسقتقل نمائندے عدیلہ راز کے توسط سے سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری و راکٹ حملوں کی عالمی تنظیم سے شکایت بھی کی ہے۔

حکومت افغانستان کی جانب سے ارسال کردہ ایک مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پاکستان سے دو طرفہ اور دیگر ذرائع سے ان درخواستوں کے باوجود کہ وہ ہمارے علاقہ میں اپنی غیر قانونی اور اشتعال انگیز سرگرمیاں بند کر دے پاکستانی فوجی و سلامتی دستے افغان علاقوں میں در اندازی کر رہے ہیں۔

راز نے کہا کہ حکومت افغانستان صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن اگر اس کو اس میں ناکامی ہوئی تو وہ سلامتی کونسل سے رجوع کرے گی کہ وہ پاکستان کی جارحیت روکنے اور سرحدی خلاف ورزی بند کرانے کے لیے ضروری اقدامات و کارروائی کرے۔

یہ مظاہرے جہاں ایک جانب سرحد پار سے پاکستانی سلامتی دستوں کے ذریعہ کیے گئے حملوں ، جس میں کم از کم10فوجی و غیر فوجی مارے گئے، کے خلاف کیے جارہے ہیں وہیں پنجابی طالبان (جو پاکستانی حکومت کا ہی ایک جزو ہیں) کے خلاف بھی کیے جارہے ہیں۔

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے پرچم تلے ہزاروں پشتونوں نے 27جولائی کو خوست، چمکیان اور پکتیا میں اور(آج )28جولائی کو پکٹیکا کے گردیز اور اروگان میں مظاہرے کیے۔ مجرمانہ ارادوں سے تسلسل سے سرحد پار سے فائرنگ اور بے قصور افغانوں پر حملے کرنے اور پاک طالبان کو آزادانہ نقل و حرکت کی کھلی اجازت دے کر ڈورنڈ لائن کے تقدس کو پامال کرکے افغان پاک سرحدی علاقوں میں امن کی فضا درہم برہم کرنے پر پاکستان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

عین اسی وقت پی ٹیٰ ایم کے بیرون ملک یونٹ نے بھی پشتونوں کے خلاف حکومت پاکستان اور اس کے فوجی ادارے کے زیر نگرانی پشتونوں کی نسل کشی کے خلاف یورپ میں25تا 27جولائی مظاہرے کیے گئے۔پی ٹی ایم یورپ نے تحریک کو متعارف کرانے اور اس سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے #پی ٹی ایم یورپ کے تحت ٹوئیٹر شروع کر دیا ہے۔

جرمنی ،بلجیم اور سویڈن میں پی ٹی ایم کارکنوں نے پاکستان میںحنیف پشتین سمیت متعدد پی ٹی ایم کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کرنے کے خلاف ان یورپی ممالک کے کئی شہروں میں اور بروسلز میں یورپی یونین کے سامنے مظاہرے کیے۔مظاہرین ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ اسی طرح پی ٹی ایم کا افغانستان کے ذہب میں بھی ایسا ہی مظاہرہ جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *