ماسکو:(اے یو ایس ) روس کا ایک بحری جنگی جہاز ، جسے ایک دھماکے میں نقصان پہنچا تھا، بحرِ اسود (بلیک سی) میں ڈوب گیا ۔ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق بحر اسود میں موجود موسکوا نامی لڑاکا بحری جہاز کو گھسیٹتے ہوئے بندرگاہ لایا جا رہا تھا کہ شدید طغیانی پر آئے سمندر کی بپھری لہروں کی زد میں آکر ڈوب گیا۔ جبکہ دوسری اطلاع کے مطابق جہاز پر لدے اسلحہ کے ذخیرے میں آگ لگنے سے دھماکے ہوئے جن کے بعد جہاز سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا رہے ہیں۔یہ510میزائل بردار جنگی جہاز روس کی فوجی طاقت کی علامت تھا اور یوکرین پر بحری حملہ کی قیادت کر رہا تھا۔
یوکرین نے کہا کہ اس کا میزائل اس جنگی جہاز سے ٹکرایا ۔لیکن روس نے اس پر کسی قسم کے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ صرف اتنا کہا کہ یہ جہاز آگ لگ جانے کے باعث ڈوب گیا۔خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی“ نے جمعرات کو روس کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ موسکوا میزائل کروز میں آگ لگنے کے باعث اس میں ذخیرہ کیا گیا اسلحہ دھماکہ سے پھٹ گیا۔ روس کی وزارت دفاع نے بھی ایک بیان میں کہا کہ بحری جہاز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور آگ لگنے کی وجہ کا پتا لگایا جا رہا ہے۔ادھر یوکرین کے جنوب مشرقی شہر ماریوبول میں روس اور یوکرینی فوج کے درمیان خونریز لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
روس کی جانب سے اپنے مغربی ہمسایہ ملک یوکرین پر 24 فروری کو کیے جانے والے حملے کو 50 دن مکمل ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ روس نے رواں برس 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس جنگ کے دوران امریکہ اور یورپی اقوام کی جانب سے روس کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے اور روس پر معاشی پابندیاں بھی لگائی گئیں۔ بدھ کو امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ روس یوکرین میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کے واضح شواہد موجود ہیں۔
تصویر سوشل میڈیا 