مقبوضہ بیت المقدس: (اے یو ایس ) بیت المقدس میں جمعرات کے روز مسجد اقصیٰ میں نمازیوں اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں دیکھی جا رہی ہیں۔ اسی دوران تل ابیب کے قریب ایک علاقہ میں دو فلسطینی خنجر برداروں نے چھرے زنی کی وارداتیں کیں جس میں تین اسرائیلی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ دونوں خنجر بردار واردات انجام دینے کے بعد چھرا لہراتے ہوئے ایک گاڑی میں سوار ہو کر فرار ہو گئے۔پولس نے حملہ آوروں کی تلاش میںسڑکوں کی ناکہ بندی کر کے فضا میں ہیلی کاپٹروں کو چھوڑ دیا۔ جمعرات و جمعہ کی درمیانی شب میں خنجر زنی کی یہ واردات جو اسرائیل کے یوم آزادی کے موقع پر کی گئی ،حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی شہروں میں انجام دی جانے والی سب سے زیادہ ہلاکت خیز وارداتوں میں سے ایک بتائی جاتی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس واردات سے پہلے جمعرات کو دن کے اجالے میں اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی کوشش کے دوران میں آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی شہری دم گھٹنے کا شکار اور زخمی ہو گئے۔ایجنسی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مسجد کے منبر کا شیشہ بھی چکنا چور ہو گیا۔ درجنوں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کی سرپرستی میں باب المغاربہ کی سمت سے مسجد پر ہلہ بول دیا۔فلسطینی تنظیم فتح موومنٹ نے مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے دھاوے کا مقابلہ کرنے کے واسطے عام نفیر کے اعلان پر زور دیا۔فلسطینی وزارت خارجہ نے اس صورت حال کی مذمت کی ہے۔ وزارت نے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کو اس کا براہ راست ذمے دار ٹھہرایا۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے سرکاری طور پر مذہبی جنگ چھیڑ دینے کے اعلان کے مترادف ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔یہ تصادم ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب مسجد اقصیٰ میں غیر مسلموں کی زیارت کے پروگرام کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔
رمضان کے آخری عشرے کے دوران میں یہ پروگرام روک دیا گیا تھا۔اس پروگرام کے تحت غیر ملکی غیر مسلموں اور یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہونے اور وہاں گھومنے پھرنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم کسی بھی مذہبی شعائر کی ادائیگی ممنوع ہے۔سوشل میڈیا پر زیر گردش وڈیو کلپوں میں القبلی مصلے کے اندر متعدد نمازیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جب کہ مصلے کے دروازوں پر اسرائیلی سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر جنڈلمین نے نمازیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی تیاری کر کے آئے تھے۔ عربی زبان میں کی گئی اپنی ٹویٹ میں ترجمان نے کہا کہ فلسطینی بدمعاشوں نے دیواروں کو نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی .. وہ پہلے ہی پتھروں کی بڑی تعداد القبلی مصلے میں لے کر آ چکے تھے۔ یہ عمل اس جگہ کی حرمت کے خلاف ہے ۔ واضح ہو کہ گذشتہ جمعہ کو علی الصباح مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کم از کم 42 افراد زخمی ہوئے۔ اسی کے بعد اسرائیلی فوج نے مسجد کے صحنوں سے نکل کر اس کے تمام دروازے کھول دیے تھے ۔
تصویر سوشل میڈیا 