UNDP,Millions face economic challenges in Afghanistanتصویر سوشل میڈیا

کابل: افغانستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے افغان عوام کی ابتر معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لاکھوں افراد کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔

افغانستان میں یو این ڈی پی کے سربراہ نے کہا کہ وہ افغانستان کے لیے انسانی امداد کو کافی نہیں سمجھتے اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کے بغیر افغانستان مستحکم نہیں ہو گا۔،” افغانستان میں یو این ڈی پی کے رہائشی نمائندے عبداللہ الدرداری نے کہا کہ انسانی امداد کی کارروائیاں، اگرچہ بہت اہم ہیں، کافی نہیں ہیں اور ہمیں لوگوں کے ذریعہ معاش پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اور ہمیں لوگوں کے ذریعہ معاش پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم لاکھوں لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جو معاشی تباہی کے دہانے پر ہیں جبکہ ان لاکھوں کے علاوہ بھی بے شمار ایسے لوگ ہیں جو پہلے ہی انسانی صورتحال اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہیں۔

ہم واضح طور پر کہنا چاہیں گے کہ اگر آپ افغانستان میں انسانی بنیادوں پر بوجھ کو کم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں روزگار پر کام کرنا ہوگا۔افغانستان میں یو این ڈی پی کے سربراہ نے کہا کہ یہ ادارہ لوگوں کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔دریں اثنا، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ٹوئٹر پر افغانستان کے لیے انسانی امداد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کا کہنا ہے کہ وہ پورے افغانستان میں ضرورت مند لوگوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے، صرف گزشتہ تین ماہ میں بدخشاں میں 900,000 لوگوں کی مدد کی ہے۔وزارت اقتصادیات کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ گھریلو سرمایہ کاری کے ساتھ چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔اقوقام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق فی الحال افغانستان میں23ملین افراد بھکمری کا شکار ہیں اور95فیصد کے پاس اتنی خوراک بھی نہیں ہے کہ وہ24گھنٹے میں تین وقت کا کھانا کھا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *