سندھ:(اے یوایس )اندرون سندھ موسلادھار بارشیں اور ان کے سبب ہونے والی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز بارشوں کی وجہ سے ایک اندہناک سانحہ خیرپور ضلع میں اس وقت رونما ہوا جب احمد پور علاقہ میں ایک مسجد کی چھت گرنے سے 15افراد موقع پر ہی جاں بحق اور 70دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
متوفیان اور زخمی افراد موسلا دھار بارش سے گھروں کی خستہ حالت کے باعث مسجد میں پناہ لیے ہوئے تھے جب ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش آگیا، جس کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور فضا سوگوار ہوگئی۔سکھر سمیت اندرون سندھ کے دیگر اضلاع خیرپور،تونسا شریف ، ماؤنٹ سلیمان ، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ, جیکب آباد و دیگر میں گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی موسلادھار بارشوں سے ،جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، مکانات کی چھتیں بیٹھ جانے اور سیلابی ریلے سے پیش آنے والے حادثارت میں18 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
شہروں میں جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہوکر سیلابی ریلے کا منظر پیش کر رہا ہے، مکانات اور گھروں کی چھتیں گرنے کے واقعات بھی بڑھ گئے۔ضلع سکھر کی تحصیل روہڑی کے علاقے کندھرا میں اقبال برڑو نامی شخص کے گھر کی چھت گھر میں سوئے ہوئے بچوں پر آگری جس کے نتیجے میں ان کے بیٹے اور بیٹی سمیت 4 بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے۔کشمور۔ کندھ کوٹ ضلع کے گاو¿ں بجار خان بجارانی میں گھر کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور 2 بچے زخمی ہوگئے۔
اسی طرح اندرون سندھ کے دیگر اضلاع میِں بھی چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کردیا گیا ہے۔جیکب آباد کے نواحی گاو¿ں رحیم بخش سومرو میں بارش کے باعث گھر کی چھت گر گئی۔چھت کے نیچے دب جانے 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
تصویر سوشل میڈیا 