IHC dismisses contempt plea against Sharif brothersتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد:(اے یو ایس ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا معاملہ سننا اس عدالت کا اختیار نہیں۔گذشتہ روز رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کے دوران عرضی گذار ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مو¿قف اختیار کیا کہ نواز شریف بیماری کی غرض سے لاہور ہائی کورٹ کی اجازت سے بیرون ملک گئے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف کا نام وفاقی کابینہ نے ای سی ایل سے نکالا، کسی عدالت نے نہیں۔ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے عدالت سے اجازت نہیں لی۔ادھر ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے مچلکے جمع کروانے کا کہا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے اس عدالت سے رجوع ہی نہیں کیا جہاں اپیلیں زیرسماعت ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر عبوری حکم تھا یا حتمی فیصلہ سنایا گیا تھا؟ ایک عبوری حکم جاری ہوا، اس کے بعد درخواست تاحال زیر التوا ہے۔ کیا حکومت نے اس حکم کو چیلنج کیا؟ عبوری حکم کو چیلنج نہ کر کے حکومت نے اس آرڈر کو تسلیم کیا۔ جس پٹیشن میں عبوری حکم آیا وہ بھی تاحال لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ظفر علی شاہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔‘چیف جسٹس نے کہا کہ جس پٹیشن پر ابھی فیصلہ نہیں آیا اور عبوری حکم بھی چیلنج نہیں کیا گیا اس پر ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں؟ کیا یہ عدالت کسی اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت معاملے پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟‘چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس درخواست کو مثالی جرمانے کے ساتھ خارج کرتے لیکن آپ سینیئر وکیل ہیں اس لیے اس طرف نہیں جا رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *