India can be alternative for Central Asian nations fearing Chinese yokeتصویر سوشل میڈیا

نئی دہلی: جمعہ سے شروع ہونے والے بیجنگ سرمائی اولمپکس کا چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج میں بڑی جمہوریتوں کی جانب سے سفارتی بائیکاٹ کے باعث بے آہنگ اور متنازعہ آغاز ہوا۔ ایشیائی تناظر میں ہندوستان کا حکومتی سطح پر گیمز سے خود کو دور کرنے کے فیصلے سے اور بڑھ گیا ہے۔اس بائیکاٹ کامحرک چین کا جون 2020 میں لداخ میں سرحدی جھڑپ میں زخمی ہونے والے پیپلز لبریشن آرمی کے ایک سپاہی کو افتتاحی تقریب میں شامل کرنے کا فیصلہ تھا۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ایک سخت بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افسوسناک ہے کہ چین نے قی فاباو¿ نام کے اس سپاہی کو اولمپک ٹارچ ریلے کے مشعل برداروں میں شامل کیا۔تاہم افتتاحی تقریب میںپانچ وسطی ایشیائی ملکوں کے رہنماو¿ں کی شرکت سے ایشیا کے ایک حصہ کی مکمل نمائندگی کی گئی -۔ یہ اجتماعی موجودگی روسی صدر ولادیمیر پوتین کی قیادت میں 16 دیگر رہنماو¿ں کے ساتھ صدر شی جن پنگ کے لیے ان کی حمایت کا بھی اشارہ ہے۔پانچ وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سابق سوویت یونین کا حصہ تھے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آزاد ممالک بن گئے۔

ایشیا کے قلب میں ان کے جغرافیائی محل وقوع نے ان بہت کم آبادی والے، وسائل سے مالا مال ممالک کو عصری جغرافیائی سیاسی مطابقت فراہم کی ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا اور اس کے نتیجے میں طاقت کے خلا سے اس کو مزید تقویت بخشی ہے۔ وسطی ایشیا میں نئے سرے سے سیاسی دلچسپی جنوری کے آخر میں دو چھو معمولی تغیرات کی عکاس ہے جو ایک پیچیدہ علاقائی اور عالمی تزویراتی بین السطور ہے۔(جاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *