International human rights day and our problems and responsibilitiesتصویر سوشل میڈیا

تحریر: کامران ظفر بھٹی
دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز 1948 میں ‘یونیورسل ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس‘ کے عنوان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایماءپر ہوا تھا۔انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی اس دستاویز کا دنیا کی 500 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس اعلامیے میں دنیا کے ہر ایک انسان کو بلا امتیاز تمام بنیادی اور ناگزیر حقوق ملنے کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے، خواہ اُس کا تعلق کسی نسل، رنگ، مذہب، جنس، زبان، سیاسی یا دیگر وابستگی، قومی یا معاشرتی حیثیت اور املاک سے ہو اسکے علاوہ تمام تر بنی نو انسانوں کے آزاد و مساوی ہونے کے تخیل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 10 دسمبر 1948 کو حقوق انسانی کے دن کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے شعور کو اُجاگر کرنے کے زیر مقصد منائے جانے کا فیصلہ کیا گیاتھا اور انسانی حقوق کا عالمی منشور جیسی دستاویز پر عمل کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران حرص کے چنگل میں پھنسنے والے ڈکٹیٹررز کی جانب سے کرہ ارض کو کسی کھائی کے کنارے دھکیلنے، کروڑوں انسانو ں کے جنگوں، جلا وطنی، نسل کشی اور قتل عام کا سامنا کرنے نے پیدائشی طور پر حاصل کردہ انسانی حق کو عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کیے جانے اور اسے تحفظ میں لینے کاموقع فراہم کیا۔ عصر حاضر میں اگر وسیع پیمانے کی جنگیں نہیں ہو رہیں تو بھی عراق، فلسطین، اور شام کی طرح کے کئی ایک ممالک میں جھڑپوں اور تصادم کے دوران واضح طور پر حقوق انسانی کو پاؤں تلے روندھے جانے کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں اپنی آوازیں بلند کرتے ہوئے ان کا سد باب کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ہر ذی شعور اور انسانیت کا درد رکھنے والے انسان کی دیرینہ تمنا ہے کہ تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی چاہے دنیا کے کسی مقام پر بھی کیوں نہ ہو جھڑپوں اور دہشت گردی سے رونما ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کاجلدازجلد خاتمہ کیا جانا ضروری ہے اسکے علاوہ ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے بالخصوص مذہبی اور فرقہ وارانہ اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، دور افتادہ علاقوں میں ریاست کی موثر رٹ کی غیر موجودگی، خراب نظم وضبط، جبری گمشدگیوں کی روک تھام میں ناکامی جہاں سندھ میں ان کی تعداد اب بلوچستان کے برابر ہوگئی ہے، گمشدہ افراد کی لاشوں کا برآمد ہوناصحافیوں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں پر حملے اور قابل ذکر تعداد میں داخلی نقل مکانی ایک اہم ایشو بن چکا ہے ہے۔ اسکے علاوہ بھی انسانوں حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل فہرست ہے جن سے نبرد آزما ہونا ہے لیکن یہ یک سمتی، رسمی اور ان خلاف ورزیوں جنہوں نے بہت سے لوگوں کی حالت کو پہلے سے بھی زیادہ بدتر بنادیا ہے کے حوالہ سے محض جوابی ردعمل ہے۔ اکثریتی آبادی کے عقیدہ سے تعلق نہ رکھنے والوں کے ساتھ عدم رواداری کا سلسلہ بلا روک ٹوک بڑھتا چلا جارہا ہے جس کا اندازہ ان کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد سے لگایا جاسکتا ہے۔ معروف سماجی رہنما اور سی ای او سانجھ پاکستان مہر غلام عباس نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی ومسلکی اقلیتوں کی تشویش ناقابل بیان ہے۔ مذہب کے نام پر بلوائی تشدد کو فروغ مل رہا ہے۔ اور ان تمام مسائل کے حل کیلئے ریاست کو سنجیدگی سے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لاہور میں مسیحی برادری کی جوزف کالونی پر حملے، جس نے قوم کا سرشرم سے جھکا دیا تھا، کو بھلایا جاچکا ہے۔ اس امر کی یقین دہانی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ہزارہ شیعوں کے قتل عام پر قابو پالیا جائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مقتولین اوراس کے اہل خانہ کو حکام کی ہمدردیاں حاصل نہیں ہیں۔

مذہبی اقلیتوں اور مسالک کی عبادت گاہوں پر حملے معمول بن چکے ہیں۔ ملک بھر میں جہاں تعلیمی مراکز کے نام پر قائم ہونے والے اداروں سے منافرت کی تبلیغ کی اطلاعات ملتی ہیں وہاں مخصوص مذہبی و مسلکی جماعتوں کو مسلح کیا جا رہا ہے عوام کی عمومی رائے ہے کہ فتنہ انگیزوں کو ریاستی مشینری میں موجود بعض عناصر کی مدد حاصل نہ ہوتی یا مجموعی طور پر ریاست غیر زمہ داری کا مظاہرہ نہ کرتی تو حالات اتنی سنگین صورت اختیار نہ کرتے۔ مذہب کے نام پر تشدد کی تبلیغ بارے قانون متعارف کروانے کی فوری ضرورت ہے۔میڈم ام کلثوم سیال ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوشل یوتھ کونسل آف پیٹریاٹس نے کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں بشمول فاٹا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لاقانونیت اب ایک عام رواج ہے۔ یہ تصور کرنا ہی محال ہے کہ ریاستی معاملات اتنے بدتربھی ہو سکتے ہیں دہشت گردوں کے بڑے گروہوں نے سرکاری تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ریاستی اداروں کے بڑے پیمانے پر آپریشن کے باوجود آج بھی سوات اور دیگر علاقوں میں مذہبی عسکریت پسند دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تمام ریاستی امور میں شراکت دار سپریم کورٹ ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں دے پارہی جوکہ جبری گمشدگی کے متعلق ہیں اور جس کی سماعت پہلی دفعہ 2007میں شروع ہوئی۔ انسانی حقوق کو نقصان پہنچانے والے قوانین متعارف کروانے کے نئے جذبے نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات اور ملکی قوانین کے نفاذ میں ناکامی کو مزید سنگین کردیا ہے۔قاتلوں کو سزا سے مکمل استثنیٰ حاصل رہا۔ سماجی رہنما اور نامور لکھاری مریم غازی نے کہا کہ ملک بھر میں صحافیوں کا قتل، قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ریاستی اداروں کی ناکامی کی کی وجہ سے آج کی ابتر صورتحال میں ہر حق سچ کے علمبردار صحافی کی زندگی خطرے کی زد میں ہے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرنے والوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

بہت سے صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو مخصوص حملوں میں قتل کیا جاتا رہا۔ دیگر بہت سوں کو دھمکیوں اور دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا اور ملک تک چھوڑنا پڑا خواتین اور اقلیتی برادریوں کی استعداد سے استفادہ حاصل کرنے سے یکسر انکار سے ان معاملات کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی و سماجی رہنما عمرانہ کومل نے کہا کہ سرائیکی وسیب کی آج ہم اس حال پرکھڑے ہیں کہ انسانی حقوق کی صورتحال زیادہ سے زیادہ چیلنجینگ ہوتی جارہی ہے کیونکہ جیسے جیسے خواتین بچوں کیلئے تعلیم صحت اورترقی کے مواقع میں اضافہ ہورہاہے وہاں عورتوں اوراوربچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوزویب سائٹس پر اپلوڈ کی جاتی ہیں کہ کوئی انسان یاقانون ہماراکچھ نہیں کرسکتااس کیلئے ہمیں بہت ساراکام کرنے کی ضرورت ہے۔تیزاب گردی،کاروکاری،ونی،وٹہ سٹہ،غیرت کے نام پرقتل وغیرہ یہ تواپنی جگہ موجود ہیں مگرجب ہم دیکھتے ہیں پینے کے صاف پانی،صحت اورتعلیم کاحق ہے ابھی ہم بہت پیچھے ہیں اگرعورتیں کسی فیلڈمیں آگےآرہی ہیں توانہیں کئی ناگواررویوں کی وجہ سے پیچھے دکھیلاجاتاہےترقی کےحوالےسے یہ کہوں گی کہ کورووناکے دنوں میں دیکھاگیابے روزگارلوگ ادھیڑعمرمیں مزدوری کرنے پرمجبورہوگئے اس لیے معاشی مواقع بھی نہ ہونابھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے یہاں پرایک مثال دوں گی افضال احمد کس طرح ایک سرکاری ہسپتال میں ایڑیاں رگڑرگڑکے مرگئے یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہماراصحت کا سسٹم کتنابیمارہے ایک انسانی حقوق پرکام کرنے والاکارکن یاصحافی ہوتاہے وہ اپنے اگلے چیلنج پر نظررکھتے ہوئے ایک امیدکی کرن ضروررکھتاہے ہم نے عورتوں بچوں بزرگوں کیلئے بہت سے قوانین بنوائے ہیں اور عالمی معاہدات بھی بہت ہوئے مگرابھی کرنے کے کام بہت ہیں ابھی ہم اس کنارے پرکھڑے ہیں جس کے آگے بہت بڑاسمندہے میراپیغام یہ ہے کہ ہم نےجہاں ترقی کی ہے اس پربھی نظررکھیں اورچیلجنز کاسامناکرنے کیلے اپنی جدوجدجاری رکھیں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے انسان دوستوں کی آرا اپنی جگہ پر اہم ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم تمام غیر جمہوری ہتھکنڈوں کی مذمت کریں، انہیں مسترد کریں اور ان سے لاتعلق رہیں آج بھی میڈیا اور سول سوسائٹی ایک مرتبہ پھر خودکو اکیلا محسوس کررہے ہیں۔ خطرات کے باوجود انہیں ان تمام خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا ہوگا اور ہمیں عہد کرنا ہو گا کہ انسانی حقوق کی پامالی پر اپنی بھر پور آواز اٹھائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *