اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ نے پیر کے روز پاکستان تحریک انصاف قیادت والی وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ نواز(پی ایم ایل این) کی نائب صدر و سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو ا ن کا نام ایکزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے اپنے فیصلہ سے مطلع کرے۔

جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس انوار الحق پنو پر مشتمل ہائی کورٹ کی ایک دوججی بنچ نے مریم کی دوسری عذر داری پر جس میں انہوں نے اپنا نام ایکزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے اور اپنے علیل والد کی عیادت کے لیے ایک بار اجازت دینے کی استدعا کی تھی،سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔

9دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی پہلی عذر داری کا نپٹارہ کرتے ہوئے حکومت کی ریویو کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ اس معاملہ پر ایک ہفتہ کے اندر فیصلہ کر لیا جائے۔

عدالت نے معلوم کیا کہ اس کی جانب سے پہلا حکم جاری کیے کتنے د ن ہو گئے تو مریم کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز نے جواب دیا کہ حکومت کو ہدایت جاری کیے دو ہفتہ گذر گئے اور ابھی تک اس پر حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پرویز نے مزید کہا کہ مریم کے نمائندہ عطا ترار بھی حکومت کی ریویو کمیٹی کے روبرو پیش ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا جا سکا۔

اس ضمن میں وفاقی حکومت کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چودھری اشتیاق اے خان سے جب استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ریویو کمیٹی نے کابینہ سے اپنی سفارش کر دی ہے پھر وہ اس پر کوئی فیصلہ کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *