Load-shedding continues in Pakistan as power shortfall hits 5,538MWتصویر سوشل میڈیا

اسلام آباد: پاکستان میں بجلی کے شدید بحران کے باعث کہرام مچا ہواہے۔ شدید گرمی میں 12 12 -گھنٹے بجلی تک بجلی میں کٹوتی سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ ایندھن کی قلت اور دیگر تکنیکی نقصانات کی وجہ سے پاکستان میں متعدد پاور پلانٹس بندکرنا پڑے جس کے نتیجے میں پاکستان کے کئی علاقوں میں بجلی کی شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔

ملک میں 6500 میگاواٹ بجلی کی کمی کے ساتھ ساتھ 12 گھنٹے تک طویل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ 26000 میگاواٹ کی مانگ کے مقابلے پاکستان میں بجلی کی فراہمی صرف 19500 میگاواٹ ہو پا رہی ہے۔ درحقیقت کمزور گورننس، توانائی کے شعبے کی بدانتظامی اور سرمایہ کاری میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے پاکستان میں بجلی کی فراہمی مانگ سے 32 فیصد کم ہو گئی ہے۔ ایندھن کی کمی اور بجلی کی پیداوار میں کمی کی تکنیکی وجوہات پاور پلانٹس کے بندہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان کا ہائیڈرو پاور پلانٹ 3,674 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ حکومت کے تھرمل پاور پلانٹ 786 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہے۔ آریہ نیوز کے مطابق پاکستان کے دیہی علاقوں میں 12 گھنٹے بجلی کٹوتی کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی(لیسکو) کی بجلی کی قلت 800 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ حالانکہ بجلی کی مانگ 4800 میگاواٹ ہے لیکن بجلی کی فراہمی 4000 میگاواٹ ہے۔

دریں اثنا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی طرف سے 1 بلین امریکی ڈالر کے قرض کی قسط جاری کرنے کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت والی پاکستانی حکومت نے منافع بخش عوامی ملکیت والے ڈسکوز کی نجکاری کے علاوہ بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی تجویز کے بعد کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف نے 2600 ارب روپے کے بجلی کے نرخوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ حکومت پاکستان عوامی ملکیت میں منافع بخش ڈسکو شروع کرے، فوری طور پر نجکاری کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *