Mother tongue must be kept alive says Sagar cultural forum Jammu and Kashmirتصویر سوشل میڈیا

سری نگر: وادی کشمیر کی ادبی تنظیم ساگر کلچرل فورم ڑکر پٹن موجودہ وبائی صورتحال میں بھی کشمیری زبان و ادب کی شمع کو فروزاں رکھنے کے لئے مشاعروں اور ادبی محفلوں کا انعقاد کرنے کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئی ہے۔

فورم کے صدر ساگر نظیر کا کہنا ہے کہ اپنی مادری زبان اور اس کے ادبی سرمایے کی حفاظت ہر ذی حس اور فرض شناس شخص کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور ہم اس فرض سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے پیہم جد وجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کے ادیبوں اور شاعروں کا مادری زبان کے فروغ اور تحفظ کے لئے جذبہ قابل داد وتحسین ہے۔ ادبی محفلوں کے انعقاد کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے فورم کی طرف سے نمبلن بارہمولہ میں ایک عظیم الشان ادبی محفل کا انعقاد ہوا جس کی پہلی نشست میں معروف شاعر الہام عبدلااحد ملک کے شعری مجموعے ‘ووتش لوگ لولہ ارمانن’ کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔

پہلی نشست کی صدارت ادبی مرکز کمراز کے صدر فاروق رفیع آبادی نے کی جبکہ ایوان صدارت میں سابق ایم ایل اے بارہمولہ جاوید حسن بیگ بحیثیت مہمان خصوصی اور معروف قلمکار اور شہربین کے نمائندے خورشید عالم مہمان ذی وقار کی حیثیت سے موجود تھے۔ وادی کے نوجوان قلمکار منتظر مومن نے اجرا شدہ کتاب پر تبصرہ پیش کیا۔ محفل کی دوسری نشست مشاعرے پر مشتمل تھی۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر ڈار مشتاق نے کی۔

مشاعرے میں جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں ساگر سرفراز، ریاض ربانی، آفاق دلنوی، نثار اعظم، بشیر زوگیاری، رشید روشن، حسن درویش، علی کاظمی، مسرور مظفر، اسداللہ صفوی، حق نواز، رافیہ ولی، عشرت منظور، پرویز نہالپوری، محبوب بلال، مبارک لون، شوکت تلگامی، طارق احمد طارق، حسن اظہر، توصیف رضا دلنواز، خان عابد اشرف، قیوم ترکولہ بلی، صابر ایوب، بشیر منگوالیوری، مجروح کشمیری، خالد بشیر، ارشاد ساقی، الہام ناروایہ، قیصر مجدی، بشارت حفیظ، شاہی سجاد، عبدالغفار خاکسار اور ساگر نذیر شامل ہیں۔ فورم کے صدر ساگر نذیر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ بشیر زوگیاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *