Pakistan is going through a very difficult phase again with a begging bowl in hand: Dr Shabir Choudhryتصویر سوشل میڈیا

ڈاکٹر شبیر چودھری

چونکہ مجھے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں واقع اپنے گاؤں میں واپس جانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے میں نے اپنے ایک رشتہ دار کو فون کیا تاکہ اپنے رشتہ داروں اور گاؤں اور علاقے کے دیگر لوگوں کے بارے میں علم ہو سکے۔ خاندان کے حال احول سے واقف ہونے کے بعد میں نے اس سے سیاسی صورتحال کے بارے میں پوچھا۔ ا س نے کہا کہ انکل حالات ویسے ہی ہیں جو 60 سال پہلے تھے۔ میں اس کی بات سمجھ نہیں سکا ور کہا کہ وضاحت کرو کیا کہنا چاہتے ہو۔ساٹھ سال پہلے لوگوں کو بتایا گیا تھا کہ ملک بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے فوج کو حمایت کی ضرورت ہے۔ اب 2022 میںہمیں بھی وہی درس دیا جا رہا ہے۔ آج کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرح اس وقت کے حکمران بھی امریکہ و چین سے حمایت و مدد کی فریاد کر رہے تھے۔

اس نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور کہاکہ اس وقت کے مقابلہ آج جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ مشرقی پاکستان پاکستان کے اہتھوں سے نکل گیا اور ملک اور زیادہ منقسم، مزید غیر مستحکم، بین الاقوامی سطح پر اور بھی زیادہ تنہا والگ تھلگ، معاشی طور پر کمزور اور ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔اس نے پاکستان کے جو حالات بیان کیے میں اس سے متفق تھا۔ پاکستان کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ اور جس شخص کو پاکستان کا مسیحا سمجھا جاتا ہے ہ بظاہر ذاتی انتقام اور دولت جمع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔تاہم ایک چیز اس کے حق میں جاتی ہے، اس شخص کو چندہ مانگنے کا زبردست تجربہ ہے۔ وہ بڑا شاطر اور ہر ایک کو قائل کرنے میں ماہر ہے۔ پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک معروف فلاحی ادارہ ہے جسے لوگوں سے پیسے اکٹھا کرنے اور غریبوں کی مدد کرنے کا 70سال کا تجربہ ہے۔عمران خان نے بطور وزیراعظم پاکستان ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی سے ملاقات کی اور غریبوں اور ناداروں کے لیے اسے فنڈز فراہم کرنے کے بجائے اپنے کام کے لیے ان سے 10 ملین روپے کی کثیر رقم انیٹھ لی۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چندہ بٹورنے میں کتنی زبردست مہارت رکھتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے چندہ جمع کرنے کی اپنی صلاحیتوں کا شاندا استعمال کیا ہے، اور کاسہ گدائی کبھی خالی واپس نہیں آیا۔اس ہفتے وہ ایک کثیر المقاصد دورہ کے ساتھ چین جا رہے ہیں۔ چین سے مزید رقم کی درخواست کے علاوہ وہ روس اور قازقستان کے صدور کے آگے بھی مالی مدد کے لیے ہاتھ پھیلائیں گے۔ عمران خان کا ہدف چین سے 3 بلین ڈالر، روس سے 1 بلین ڈالر اور قازقستان سے 1 بلین ڈالر اکٹھا کرنا ہے۔ اپنے قیمتی تجربے، ہوشیاری اور ہوشیاری کے باوجود عمران کا 5 بلین ڈالر حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ تاہم، مجھے یقین ہے کہ مسٹر خان خالی ہاتھ واپس نہیں آئیں گے، کیونکہ چین ا اپنے سابقہ قرضے کو بچانے کے لیے مزید فنڈز فراہم کردے گا۔

چندہ جمع کرنے کے علاوہ عمران خان چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)کے حوالے سے، جو پاکستانی حکومت کی عدم دلچسپی، غیر ذمہ داری اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے نامساعد حالات سے دوچار ہے، عمران خان چینیوں کوبہلانے پھسلانے کی کوشش کریں گے کہ ان پر اعتماد کریں ۔عمران خان چین کے سرکاری دورے پر نہیں جا رہے بلکہ وہ وہاں سرمائی اولمپکس کی، جس کا مغرب کے کئی ممالک بائیکاٹ کر رہے ہیں، افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ عمران خان ایک سابق کھلاڑی ہونے کے ناطے، جنہوں نے ونٹر اولمپکس نہیں دیکھے تھے، اسے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس موقع کو اپنے سیاسی اور معاشی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ چینیوں کے لیے بھی موزوں ہے کیونکہ دیگر اہم شخصیات میں ایک اسمارٹ مہمان ہوگا۔لیکن اس دورے کے دوران عمران خان کو چینی صدر شی جن پنگ یا دیگر اہم چینی رہنماو¿ں سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا۔ ان کی ٹیم صدر شی کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا موقع پانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا۔ چینی منتظمین نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ گروپ تصویر کشی میں عمران خان بھی ہو سکتے ہیں۔اس سے عمران خان اور ان کی ٹیم کے مفادات اور اغراض و مقاصد کی تکمیل نہیں ہو سکتی ۔ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عمران خان آج بھی دنیا کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ اگر امریکی صدر عظیم شخصیت عمران خان سے بات کرنا یا فون نہیں کرنا چاہتے تو اس میں انہی کا نقصان ہے، کیونکہ ولادمیر پوتین اور شی جن پنگ جیسے دیگر اہم رہنما ان کی قدر کرتے ہیں۔

عمران خان اور ان کی ٹیم اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں ہے۔ صدر شی کے ساتھ ملاقات اور فوٹو کھنچوانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد اب وہ چینیوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے للو چپو میں لگے ہیں کہ کم از کم مشترکہ فوٹو سیشن میں ہی عمران خان کو صدر شی کی بغل میں کھڑا ہونے دیا جائے۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ چینی حکام پاکستانی سیاست کی حساسیت اور عمران خان کے سیاسی تقاضوں کو نہیں سمجھتے۔ فی لحال چینی حکام عمران کو یہ اعزاز دینے کے موڈ میں نہیں دکھائی دے رہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے سی پیک کا کیا حشر کیا ہے۔ انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ان کی سرمائی اولمپکس پروٹوکول ٹیم فیصلہ کرے گی کہ گروپ فوٹو سیشن میں کون کہاں اور کس قطار میں کھڑا ہوگا۔عمران خان چینیوں کو یقین دلائیں گے کہ وہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کی نئے جوش، یکسوئی اور عزم کے ساتھ مکمل حمایت کریں گے۔ وہ اور ان کی ٹیم چینیوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہیں ان کی(عمرن) حکمت و دانائی پر اعتماد کرنا چاہیے کیونکہ وہ بذات خود سی پیک پراجکٹوں پر نظر رکھیں گے اور عمل آوری یقینی بنائیں گے۔جہاں ایک جانب عمران خان چینیوں کو اپنی دلکشی، فریب اور شاید چین کی تاریخ اور ثقافت یا کنفیوشسزم کی حکمت پر تاریخ کے سبق کے ساتھ جیتنے کی کوشش کریں گے وہیں دوسری جانب پاکستان میں ان کا ’باس‘ پاکستان کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

بعض پاکستانی تجزیہ کار اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ملک کے دو طاقتور ترین افراد بیک وقت ملک سے باہر کیوں ہیں اور دو مختلف ممالک میں، جو ایک دوسرے کی مخالفت اور مسابقت کے مرض میں مبتلا ہیں،کیوں سرگرم عمل ہیں۔ایک نظریہ یہ ہے کہ دونوں ممالک سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر مضبوط نظریات رکھتے ہیں اور دونوں سیاسی، اقتصادی، اسلحہ اورا سٹریٹجک شعبوں میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ پاکستان ان دونوں کے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہے۔ جو دونوں کشتیوں میں پاو¿ں رکھنے کے مترادف ہے۔بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ امریکہ کو یقین دلائے کہ دونوں ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں اور ان کے دوستانہ تعلقات دوسرے ممالک کے تعلقات کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے چاہئیں ۔کچھ پاکستانی تجزیہ کار یہاں تک کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ امریکہ کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے کہ وہ اور ان کی ٹیم پاکستان میں کیا کرنا چاہتی ہے۔ باالفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس مفلوج او ر اناڑی حکومت کا کیا کریں۔ علاوہ ازیں وہ امریکہ کو دوبارہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سی پیک اور چین کے ساتھ تعلقات امریکہ کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ مزید برآں انہیںاس پر زور دینا چاہئے کہ پاکستان ایسے کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے گا جس سے امریکی مفادات متاثر ہو سکتے ہوں یا جو سی پیک یا گوادر کو امریکہ کے خلاف استعمال کیا جا رہاہو۔کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ عمران خان کی ایک ذمہ داری چینیوں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ وہ چین اور پاکستان کے مشترکہ منصوبوں کو خطرے سے دوچار کرنے کے لیے امریکا یا بین الاقوامی زر فنڈ(آئی ایم ایف) سے سے ہدایات نہیں لیں گے۔لیکن چین ماضی میں پاکستان کی دروغ گوئی ، اعتمادشکنی اور مایوسی و نامیدی کی وجہ سے پاکستانی حکومت پر اعتبار کرنے سے ہچکچائے گا۔

مثال کے طور پر داسو دہشت گردانہ حملہ کے بعد، جس میں کئی چینی ہلاک ہوئے تھے، پاکستان نے کہا تھا کہ بس کا ٹائر پھٹ گیا تھا جس سے یہ حادثہ ہوا۔ چینی اس سے متفق نہیں تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا اور انہوں نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ چین اور پاکستان کے درمیان بعض معاہدوں میں کچھ ایسے خفیہ معاہدے تھے جن کا نہ تو کسی دوسرے ملک یا کسی بین الاقوامی ادارے سے ذکر کرنا چاہیے تھا اور نہ ہی اسے عام کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے دباو¿ اور مزید پیسہ حاصل کرنے کے لیے اس نے یہ تفصیلات آئی ایم ایف کے گوش گذار کردیں۔اس تناظر میں عمران خان اور جنرل باجوہ دونوں کے لیے سیاسی ماحول بہت زیادہ تسلی بخش نہیں ہوگا۔لیکن مجھے یقین ہے کہ ان نامساعد حالات و مشکلات کے باوجود دونوں تہی دست نہیں لوٹیں گے ۔
(مصنف یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی خٓرجہ امور کمیٹی کے صدر ، کئی کتابوں کے مصنف، سیاسی تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *