کراچی:(اے یو ایس )کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پولس کے اشارے پر نہ رکنے والے ایک موٹرسائیکل سوار نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردینے کی خبر کے سوشل میڈیا پرگردش کیے جانے اور اس پر شدید عوامی غم و غصہ کے اظہار کے بعد 3پولس اہلکاروں کو گرفتار کر کے پولس تحویل میں دے دیاگیا۔رپورٹ کے مطابق شاہین فورس کے 2 پولیس اہلکاروں نے مقتول کو سڑک کے بجائے ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس کے اندر گھس کر 2 بار گولی ماری، پولیس اہلکاروں کے اس فعل نے سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیا اور ان کی ٹریننگ پر بھی سوال کھڑے ہوگئے۔واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا مظاہرہ کیا جس کے بعددریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس سربراہ کو واقعہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جای کی۔
ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے بتایا کہ ’سینیئر پولیس افسران کی جانب سے کی گئی انکوائری سے ثابت ہوا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا ہے‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ شہری کو قتل کرنے کے الزام میں 3 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کردی گئی ہے۔قبل ازیں ایس ایس پی شرقی سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ حال ہی میں شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے تشکیل دی گئی شاہین فورس کے 3 پولیس اہلکاروں کو 26 سالہ عامر حسین کو گولی مار کر قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ابتدائی بیان میں گرفتار پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ انہوں نے اسنیپ چیکنگ کے دوران موٹر سائیکل سوار کو رکنے کا اشارہ کیا جس پر وہ نہ رکا، انہوں نے اس کا تعاقب کیا اور فائرنگ شروع کر دی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔بتایا جارہا ہے کہ مقتول لڑکا محکمہ ایکسائز سندھ کے ایک عہدیدار کا بیٹا ہے، لواحقین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے عامر کا تعاقب کیا اور گلستان جوہر بلاک 20 میں واقع کثیر المنزلہ اپارٹمنٹ کمپلیکس ’نعمان ایونیو‘ کی سیڑھیوں پر گولی مار دی۔گولی لگنے سے اسے شدید زخم آئے اور اسے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گیا جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا، پولیس سرجن سمیہ سید نے بتایا کہ مقتول کو سینے اور پاو¿ں میں 2 گولیاں پیوست ہو گئیں جنہیں پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹروں نے نکا ل کرمزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دی گئیں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف کو واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
تصویر سوشل میڈیا 